تعلیمی اداروں میں مصنوعی ذہانت کا اخلاقی استعمال

newsdesk
7 Min Read
تعلیم میں مصنوعی ذہانت کے فوائد اور خطرات، طلبہ و اساتذہ کے حقوق، شفافیت اور تربیت کے اصول، تعلیمی پالیسی میں احتیاطی رہنما اصول ضروری ہیں۔

تعلیمی اداروں میں مصنوعی ذہانت کا اخلاقی استعمال: طلبہ اور اساتذہ کے حقوق کا تحفظ

ڈاکٹر ندیم احمد ملک
(ڈائریکٹر ڈی آئی ٹی ایس، پی ایم اے ایس ایریڈ ایگریکلچر یونیورسٹی راولپنڈی)

جدید دور میں مصنوعی ذہانت (AI) تیزی سے تعلیمی نظام کی تشکیلِ نو کر رہی ہے۔ ورچوئل اسسٹنٹس، خودکار امتحانی جانچ، آن لائن لرننگ سافٹ ویئر اور سرقہ (Plagiarism) کی نشاندہی جیسے نظاموں نے اساتذہ اور طلبہ دونوں کے لیے تعلیم کے عمل کو یکسر تبدیل کر دیا ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ طلبہ تعلیمی نظام کی بنیاد ہیں، اس لیے ان کے حقوق کا تحفظ ہر صورت یقینی بنایا جانا چاہیے۔ اگرچہ جدید AI ٹیکنالوجیز کے بے شمار فوائد ہیں، مگر اخلاقی ضابطوں کے بغیر ان کا استعمال تعلیمی شفافیت، انصاف اور پرائیویسی کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتا ہے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ AI استعمال کی جائے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ اسے محفوظ اور مؤثر انداز میں کیسے استعمال کیا جائے۔

ماہرین کے مطابق AI نظام طلبہ سے متعلق بڑی مقدار میں ڈیٹا اکٹھا کرتے ہیں، جس میں ان کا تحریری انداز، حاضری، امتحانی نتائج، مطالعے کی عادات حتیٰ کہ چہرے کے تاثرات تک شامل ہو سکتے ہیں۔ اگر اس معلومات کا غلط استعمال ہو، یہ افشا ہو جائے یا اس کی بنیاد پر غیرمنصفانہ تجزیہ کیا جائے تو طالب علم کے تعلیمی اور پیشہ ورانہ مستقبل کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ کسی بھی طالب علم کو خفیہ طور پر کمزور یا نااہل قرار دینا درست نہیں، ایسے فیصلے مشین کے بجائے اساتذہ یا تعلیمی کمیٹیوں کو کرنے چاہییں۔

اسی طرح مصنوعی ذہانت کے دور میں اساتذہ کا تحفظ بھی نہایت ضروری ہے۔ ٹیکنالوجی کا مقصد تدریس کو بہتر بنانا ہونا چاہیے، نہ کہ اس پر نگرانی یا کنٹرول قائم کرنا۔ بغیر اجازت لیکچرز کی ریکارڈنگ، کلاس رومز کی نگرانی یا غیر شفاف کارکردگی اشاریوں کی بنیاد پر اساتذہ کا تجزیہ کرنا اخلاقی اصولوں کے منافی ہے۔ تدریس ایک انسانی اور تخلیقی پیشہ ہے جو پیشہ ورانہ فہم، ہمدردی اور اعتماد پر قائم ہے۔ ماہرین کے مطابق جب الگورتھمز بنیادی انسانی اقدار کی جگہ لینے لگیں تو تعلیم ایک غیر منصفانہ اور مشینی عمل بن جاتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ “مصنوعی ذہانت کو اساتذہ کو مضبوط بنانا چاہیے، نہ کہ ان کی جگہ لینا۔”

اخلاقی AI کے لیے شفافیت بھی ناگزیر قرار دی جا رہی ہے۔ طلبہ اور اساتذہ کو یہ جاننے کا حق ہونا چاہیے کہ فیصلے کیسے کیے جا رہے ہیں، کون سا ڈیٹا جمع کیا جا رہا ہے اور کہاں AI استعمال ہو رہی ہے۔ اگر کوئی AI سسٹم یا سرقہ جانچنے والا سافٹ ویئر کسی طالب علم کی اسائنمنٹ پر اعتراض اٹھاتا ہے تو طالب علم کو شواہد فراہم کیے جائیں اور وضاحت کا پورا موقع دیا جائے۔ کسی کو بھی ایک ناقابلِ سوال “بلیک باکس” نظام کے ذریعے سزا نہیں ملنی چاہیے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ درست استعمال کی صورت میں AI ایک نہایت مفید ذریعہ ثابت ہو سکتی ہے۔ یہ دہرائے جانے والے کام سنبھال کر اساتذہ کا وقت بچا سکتی ہے، طلبہ کی تحریری صلاحیت بہتر بنا سکتی ہے، خصوصی افراد کی مدد کر سکتی ہے اور تعلیم کو انفرادی ضروریات کے مطابق ڈھال سکتی ہے۔ اس کے ذریعے ان طلبہ کی بروقت نشاندہی ممکن ہے جنہیں اضافی مدد درکار ہو، تاکہ وہ تعلیمی دوڑ میں پیچھے نہ رہ جائیں۔ تاہم یہ تمام فوائد اسی وقت حاصل ہو سکتے ہیں جب AI کا کنٹرول ذمہ دار اور ماہر افراد کے ہاتھ میں ہو۔

تعلیمی ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ تعلیمی دیانت داری کے لیے AI کے استعمال سے متعلق واضح قوانین اور پالیسیوں کی تشکیل ناگزیر ہے۔ طلبہ کو تحقیق اور لسانی معاونت کے لیے AI تک رسائی دی جا سکتی ہے، تاہم اسائنمنٹس اور امتحانات میں نقل یا دھوکہ دہی کے لیے AI کے استعمال پر سخت پابندی اور سزا ہونی چاہیے۔ ایسی خلاف ورزیوں کو تعلیمی پالیسیوں میں واضح طور پر شامل کیا جائے تاکہ طلبہ کو نتائج سے مکمل آگاہی ہو۔ دیانت داری اور شفافیت کو ان پالیسیوں کی بنیاد بنایا جانا چاہیے۔

ماہرین کے مطابق تعلیم میں مصنوعی ذہانت کا استعمال اساتذہ اور طلبہ کے درمیان توازن برقرار رکھنے کے لیے ہونا چاہیے۔ ٹیکنالوجی کو انسانوں کی مدد کرنی چاہیے، نہ کہ ان کی جگہ لینی چاہیے۔ چونکہ تعلیم ہی معاشرے کے مستقبل کی تشکیل کرتی ہے، اس لیے AI کا مؤثر اور اخلاقی استعمال قوموں کی تعمیر میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

حکومتی اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ اساتذہ اور والدین کے لیے تربیتی پروگرام شروع کیے جائیں تاکہ وہ کلاس روم میں AI کے اخلاقی استعمال، اس کی حدود اور طریقہ کار کو بہتر طور پر سمجھ سکیں۔ والدین کے لیے بھی آگاہی سیشنز کا انعقاد ضروری ہے تاکہ انہیں یقین ہو کہ ان کے بچوں کی تعلیم محفوظ ہاتھوں میں ہے، جس سے تعلیمی نظام پر اعتماد بڑھے گا۔

ماہرین نے طلبہ کو بھی تلقین کی ہے کہ وہ AI ٹولز کو مشکل تصورات سمجھنے، مسائل حل کرنے اور سیکھنے کے عمل کو بہتر بنانے کے لیے استعمال کریں۔ پیچیدہ موضوعات میں اضافی وضاحت کے لیے AI معاون ثابت ہو سکتی ہے، تاہم شارٹ کٹس یا نقل کے بجائے ان ٹیکنالوجیز کو تخلیقی صلاحیتوں، فہم اور تنقیدی سوچ کو مضبوط بنانے کے لیے بروئے کار لانا چاہیے۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے