پام آئل ممالک کونسل کا کراچی مشن ایشیا کا کردار

newsdesk
5 Min Read
پام آئل پیدا کرنے والے ممالک کونسل کے کراچی مشن نے پاکستان کی درآمدی حیثیت، بازار استحکام اور خوراکی تیل کی پائیداری پر زور دیا

سی پی او پی سی کے وفد کا دورہ ء کراچی
پام آئل کی صنعت میں ایشیا کے مرکزی کردار کو اجاگر کیا

کراچی: پام آئل پیدا کرنے والے ملکوں کی کونسل(سی پی او پی سی)نے کامیابی سے کراچی کا دورہ مکمل کر لیا۔اس دوران کونسل نے ایشیا میں پام آئل کی کھپت والی ایک انتہائی اہم مارکیٹ کے طور پر پاکستان کے ساتھ تعاون کو مستحکم بنانے کے اپنے وعدے کا اعادہ کیا۔اس مشن نے پام آئل پیدا اور استعمال کرنے والے ملکوں کے درمیان دیرینہ شراکت داری کو مضبوط بناتے ہوئے پام آئل کی عالمی مانگ کی تشکیل،مارکیٹ کے استحکام اور فوڈ سیکیورٹی کو اجاگر کیا۔

اس دورے میں سی پی او پی سی کے وفد نے حکومت،صنعت اور سفارتی حلقوں کے اہم اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ ملاقاتیں کیں اور مارکیٹ کی حرکیات،سپلائی چین کی لچک اور اُس ارتقا ء پذیر عالمی منظر نامے پر تبادلہ ء خیال کیا جو خورنی تیلوں پر اثر انداز ہو رہا ہے۔اس بات چیت کے دوران علاقائی تجارتی بہاؤ میں بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ،خاص طور پر ایسے حالات میں جب مانگ فیصلہ کن انداز میں ایشیا کی طرف منتقل ہو رہی ہے،پام آئل درآمد کرنے والے دنیا کے ایک بڑے ملک کی حیثیت سے پاکستان کے اہم کردار پر روشنی ڈالی گئی۔

اس مشن کا ایک اہم پہلو 8 ویں پاکستان ایڈیبل آئلز کانفرنس(PEOC 2026) میں سی پی او پی سی کی سیکریٹری جنرل،مادام عزانہ صالح کی مقرر کی حیثیت سے شرکت تھی۔
انھوں نے اپنی تقریر میں پام آئل کے عالمی ماحولیاتی نظام میں پاکستان کی تزویراتی اہمیت پر روشنی ڈالی اور واضح کیا کہ یہ ملک اب کوئی غیر فعال مارکیٹ نہیں رہا بلکہ مانگ کی تشکیل،استحکام اور مارکیٹ کی طویل مدتی سمت طے کرنے والا ایک اہم ایکٹر ہے۔انھوں نے کہا کہ پاکستان داخلی کھپت کے لیے سالانہ تقریباً3.3 ملین ٹن پام آئل درآمد کرتا ہے،جس کی وجہ سے یہ ملک بھارت اور چین کے ساتھ ساتھ دنیا کے سب سے بڑے درآمد کنندگان میں شامل ہے۔

انھوں نے پاکستان کے فوڈ سسٹم میں پام آئل کے ناگزیر کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ اہم طریقے سے گھریلو ضروریات کو پورا کرتا ہے،چھوٹے اور درمیانے حجم کے فوڈ پروسیسرز کی مدد کرتا ہے اور غیر یقینی عالمی حالات میں ملک کی خورنی تیل کی گنجائش کو مستحکم کرتا ہے۔مادام عزانہ صالح نے پائیداری کا ذکر کرتے ہوئے زور دیا کہ پاکستان جیسے درآمدی ملکوں میں پائیداری کو مدد کرنی چاہیئے،فوڈ سیکیورٹی اور سپلائی پر بھروسے کو نقصان نہیں پہنچانا چاہیئے۔

سی پی او پی سی کے وفد نے کراچی میں انڈونیشیا اور ملائشیا کے سفارتی مشنوں کے حکام سے بھی ملاقاتیں کیں،جس سے پام آئل پیدا کرنے والے ملکوں اور پاکستان کے ساتھ ان کے تعلق کے درمیان مضبوط و ابستگی کی عکاسی ہوتی ہے۔پاکستان میں جمہوریہ ء انڈونیشیا کے سفیر چندرا ڈبلیو سکوتجو اور کراچی میں انڈونیشیا کے قونصل جنرل مذاکر اور کراچی میں ملائشیا کے قونصل جنرل ہردیناتا احمد کے ساتھ ملاقاتوں میں بات چیت کا محور پام آئل اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ تعاون کو مستحکم بنانے اور پام آئل اور ماحولیاتی مسائل کے بارے میں غلط معلومات کو دور کرنے اور ایک طویل مدتی مارکیٹ کی حیثیت سے پاکستان کی تزویراتی اہمیت کو مزید مضبوط بنانا تھا۔

سی پی او پی سی نے اپنے دورے میں پاکستان کے #YoungElaeis Anbassador محمد اویس شاہد کا انڈسٹری کے اہم اسٹیک ہولڈرز سے تعارف کرایا،جس سے پام آئل کے بارے میں درست معلومات پر مبنی اور تعمیری بات چیت کو آگے بڑھانے میں پاکستانی نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کی عکاسی ہو تی ہے۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے