سینیٹر افنان اللہ خان کی قیادت میں پاکستانی پارلیمانی وفد منامہ، بحرین میں ایشیائی پارلیمانی اسمبلی کے سولہویں اجلاس میں شرکت کے لیے موجود ہے۔ وفد میں سینیٹر گوردیپ سنگھ اور سینیٹر محمد اسلم ابڑو سینیٹِ پاکستان جبکہ محترمہ تسکین اختر نیازی رکنِ قومی اسمبلی بطور شریک موجود ہیں۔سینیٹر افنان اللہ خان نے اجلاس میں اپنے نمایاں بیان میں پاکستان کے مستقل عزم کا اعادہ کیا اور واضح کیا کہ بین تہذیبی مکالمہ امن، استحکام اور پائیدار ترقی کے لیے کلیدی ستون ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ خطے کے پیچیدہ حالات میں یہ مکالمہ معاشرتی اتحاد اور باہمی اعتماد کی بنیاد بنتا ہے۔وفد کے سربراہ نے محترم احمد بن سلمان المسلّم، اسپیکر مجلس نمائندگانِ بحرین اور ایشیا پارلیمانی اسمبلی کے صدر کو مبارکباد پیش کی اور اس تاریخی موقع پر بحرین کی صدارت قبول کرنے کی قدر دانی کی جو اسمبلی کی بیسویں سالگرہ سے ہم آہنگ ہے۔ انہوں نے سابقہ صدارت کی قربانیوں کو سراہا اور اسمبلی کے سیکریٹریٹ کی انتظامی تیاریوں کی تعریف کی۔سینیٹر افنان اللہ خان نے اقتصادی غیر یقینی صورتحال، جغرافیائی سیاسی کشیدگی، قطبی تقسیم اور عدم برداشت جیسے بڑھتے ہوئے چیلنجز کی طرف توجہ مبذول کرائی اور کہا کہ پارلیمانوں کی ذمے داری ہے کہ وہ شمولیتی حکمرانی کو مضبوط کریں، باہمی سمجھ بوجھ کو فروغ دیں اور مکالمے کو قانون سازی، جائزہ اور نمائندگی کے ذریعے عملی پالیسی میں تبدیل کریں۔ اس حوالہ سے بین تہذیبی مکالمہ کا کردار ضروی قرار دیا گیا۔انہوں نے ایشیا کی صدیوں پر محیط تہذیبی میراث کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ خطہ کی قوت اسی باہمی رواداری، مکالمے اور باہمی سیکھنے میں پنہاں ہے۔ بین تہذیبی اور بین المذہبی مکالمہ کو انتہا پسندی، غلط معلومات اور سماجی انتشار کا مقابلہ کرنے کے لیے ناگزیر قرار دیا گیا۔پاکستان کے تاریخی اور آئینی اصولوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سینیٹر نے کہا کہ پاکستان کا کثرتیت پسندی پر مبنی نظرِ عامہ آئین میں رچی بسی ہے جو مذہبی آزادی، مساوات اور اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بناتی ہے۔ انہوں نے بین المذہبی ہم آہنگی کی حکومتی اور پارلیمانی اقدامات اور سینیٹ میں اقلیتوں کے لیے قائم مائناریٹی کاکس کی مثالیں دیں۔بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے فعال کردار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے وفد کے سربراہ نے اقوامِ متحدہ کی امن اور رواداری، مذہبی مقامات کے تحفظ اور بین المذہبی مکالمے کو فروغ دینے والی قراردادوں کی حمایت میں پاکستان کی شراکت کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کارتارپور راہداری کو اعتماد سازی کی ایک عملی مثال قرار دیا جو مکالمے کو عملی تعاون اور عوامی سطح پر مفاہمت میں تبدیل کرتی ہے۔سینیٹر نے پاکستان کی ثقافتی پالیسی 2018، قومی تاریخ میوزیم کے قیام، تاریخی ورثے کے تحفظ اور ثقافتی احیاء کے منصوبوں کا ذکر کیا اور بتایا کہ یہ اقدامات سماجی ہم آہنگی اور جامع قومی شناخت کو مضبوط بنانے کی کوششیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات بین تہذیبی مکالمہ کو داخلی سطح پر تقویت دیتے ہیں۔آخر میں سینیٹر افنان اللہ خان نے ایشیائی پارلیمانی اسمبلی کو مشترکہ پارلیمانی ایکشن، باہمی سیکھنے اور مشترکہ چیلنجز کے مقابلے کے لیے موثر فورم قرار دیتے ہوئے پاکستان کی تعمیری شرکت کا اعادہ کیا اور اپیل کی کہ بین تہذیبی مکالمہ کو پارلیمانی ایجنڈے میں مستقل ترجیح دی جائے تاکہ ایشیاء کی تنوع کو اتحاد اور مشترکہ ترقی کا ذریعہ بنایا جا سکے۔
