ایف سی پی ایس کی عالمی منظوری بحران کا شکار، حکومت سے فوری مداخلت کا مطالبہ

newsdesk
9 Min Read
پوسٹ گریجویٹ طبی ادارے کی ناکامی سے برطانیہ کے راستے بند، سات سو سے زائد ڈاکٹروں کے مستقبل متاثر، فوری اصلاحات کی اپیل۔

برطانیہ کا تربیتی پروگرام ختم، 700 سے زائد پاکستانی ڈاکٹر متاثر

اسلام آباد (ندیم چوہدری): کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان (سی پی ایس پی)، جو ملک کا اعلیٰ ترین پوسٹ گریجویٹ طبی ادارہ ہے، اس وقت شدید تنقید کی زد میں ہے۔ ڈاکٹروں اور تجزیہ کاروں کے مطابق ادارہ پاکستانی میڈیکل گریجویٹس کے مستقبل اور بین الاقوامی ملازمت کے مواقع کے تحفظ میں نظامی ناکامی کا مظاہرہ کر رہا ہے۔

سی پی ایس پی کو اس واضح مقصد کے تحت قائم کیا گیا تھا کہ ایسے ماہر معالج تیار کیے جائیں جن کی اسناد عالمی سطح پر مسابقتی اور قابلِ قبول ہوں، تاہم ناقدین کے مطابق کمزور طرزِ حکمرانی اور محدود سوچ پر مبنی ادارہ جاتی کلچر نے اس مقصد کو شدید نقصان پہنچایا ہے، جو عالمی ضابطہ جاتی، اخلاقی اور ساکھ سے متعلق معیارات کا بروقت ادراک کرنے میں ناکام رہا۔

سی پی ایس پی پوسٹ گریجویٹ میڈیکل تربیت اور اس کے نتیجے میں فارغ التحصیل ڈاکٹروں کی ملازمت کے امکانات کا نگران ادارہ ہے، تاہم وہ ایف سی پی ایس کی مؤثر بین الاقوامی منظوری حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے، بالخصوص برطانیہ اور امریکا میں، جہاں پاکستانی ڈاکٹروں کو بار بار امتحانات، لائسنسنگ کی رکاوٹوں اور کنسلٹنٹ سطح کی تقرریوں سے محرومی کا سامنا ہے۔ طبی تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال سی پی ایس پی کے قیام کے بنیادی مقصد کے منافی ہے۔

برطانیہ کے یونیورسٹی ہاسپٹلز برمنگھم (یو ایچ بی) کے ساتھ سی پی ایس پی کے حالیہ اشتراک کا خاتمہ اب ایک ناگزیر بیرونی جھٹکے کے بجائے ادارہ جاتی نااہلی کی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یو ایچ بی کا انٹرنیشنل ٹریننگ فیلو پروگرام (آئی ٹی ایف) پاکستانی پوسٹ گریجویٹ ڈاکٹروں کے لیے دستیاب قیمتی ترین بین الاقوامی راستوں میں شمار ہوتا تھا، جسے ناقدین کے مطابق ’’ہر قیمت پر‘‘ محفوظ رکھا جانا چاہیے تھا۔ تاہم برطانیہ کے روزگار اور ٹیکس قوانین سے ہم آہنگی کو یقینی بنانے، معاہدوں کی سخت جانچ اور تربیت یافتہ ڈاکٹروں کے لیے مضبوط قانونی تحفظ فراہم کرنے میں سی پی ایس پی کی ناکامی کے باعث یہ پروگرام آڈٹ، قانونی اعتراضات اور بالآخر خاتمے کا شکار ہو گیا۔

کے پی ایم جی کے ایک سخت آڈٹ کے بعد یو ایچ بی نے اسکیم ختم کر دی، سی پی ایس پی سے تعلقات منقطع کر لیے اور این ایچ ایس انگلینڈ کے بین الاقوامی ریکروٹمنٹ فریم ورک سے بھی دستبردار ہو گیا۔ اس فیصلے سے 700 سے زائد پاکستانی ڈاکٹر براہِ راست متاثر ہوئے۔ مبصرین کے مطابق معاہدوں کی درست تیاری، آڈٹس اور ضابطہ جاتی جانچ کی پیشگی تیاری سی پی ایس پی کی ذمہ داری تھی، اور اس میں ناکامی سنگین غفلت کے مترادف ہے۔

طبی حلقوں کا کہنا ہے کہ سی پی ایس پی پر لازم ہے کہ وہ مناسب برطانوی عدالتوں میں کے پی ایم جی آڈٹ اور یو ایچ بی کے فیصلے کو چیلنج کرے اور پروگرام کی بحالی کے لیے اقدامات کرے، بصورتِ دیگر قیادت کو مستعفی ہو جانا چاہیے، کیونکہ عدمِ اقدام سے پاکستانی ڈاکٹروں کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچے گا۔ سی پی ایس پی سے یہ مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے کہ وہ یو ایچ بی کو آڈٹ کے نتائج چیلنج کرنے پر آمادہ کرے، نہ کہ انہیں بلا چون و چرا قبول کیا جائے۔

ناقدین کا مؤقف ہے کہ یو ایچ بی نے کے پی ایم جی آڈٹ کو جواز بنا کر معاہدہ اچانک ختم کیا اور پاکستانی ڈاکٹروں سے لاتعلقی اختیار کی، بجائے اس کے کہ آڈٹ نتائج پر وضاحت یا اصلاحی اقدامات کیے جاتے۔ تربیت یافتہ ڈاکٹروں کے تحفظ کے بجائے شراکت داری ختم کر دی گئی، جس کے نتیجے میں سینکڑوں پاکستانی ڈاکٹر پروگرام سے باہر ہو گئے، جبکہ برطانوی ادارے کو کم سے کم نقصان اٹھانا پڑا۔

پاکستانی ڈاکٹرز اور قانونی ماہرین کے مطابق اگرچہ معاہداتی تحفظات میں کمی کی ذمہ داری سی پی ایس پی پر عائد ہوتی ہے، تاہم اس فیصلے سے غیر متناسب نقصان پاکستانی ڈاکٹروں اور سی پی ایس پی کو ہوا، نہ کہ یو ایچ بی یا برطانوی نظامِ صحت کو۔ ایک سینئر معالج نے کہا، ’’یہ ایک باضابطہ ادارہ جاتی شراکت داری تھی، کوئی غیر رسمی انتظام نہیں۔ سی پی ایس پی اپنے ڈاکٹروں کے تحفظ میں ناکام رہا، جبکہ یو ایچ بی نے خامیوں کو درست کرنے کے بجائے سہولت کا راستہ اختیار کیا۔‘‘

تکنیکی ناکامیوں کے علاوہ ناقدین سی پی ایس پی کے عالمی وژن اور بین الاقوامی نمائندگی کی کمی کی بھی نشاندہی کرتے ہیں۔ ایسے دور میں جب عالمی طبی ادارے تنوع، بین الاقوامی تعاون اور سرحد پار ساکھ پر زور دیتے ہیں، سی پی ایس پی کی قیادت کو محدود اور مغربی تعلیمی و پیشہ ورانہ روایات سے کٹی ہوئی قرار دیا جا رہا ہے۔ ڈاکٹروں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ قیادت کے پروفائل کا جائزہ لے، کیونکہ عالمی سطح پر تاثر اور نمائندگی منظوری اور اعتماد میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سی پی ایس پی کو اپنی غلطیوں کا اعتراف کرتے ہوئے ایف سی پی ایس کو برطانیہ، امریکا اور مشرقِ وسطیٰ میں بغیر اضافی امتحانات کنسلٹنٹ سطح پر تسلیم کرانے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنا ہوں گے۔ اس مقصد کے لیے برطانوی و امریکی منظور شدہ بیرونی ممتحن مقرر کرنے، نصاب اور امتحانی نظام کو عالمی معیار سے ہم آہنگ کرنے اور پی ایم ڈی سی ایکٹ 2022 کے تحت باہمی منظوری کے طریقۂ کار کو فعال بنانے کی فوری ضرورت ہے۔ بصورتِ دیگر ایف سی پی ایس ہولڈرز مستقل طور پر حاشیے پر چلے جائیں گے۔

صورتحال اس وقت مزید سنگین ہو گئی ہے جب پاکستان بدستور عالمی ادارۂ صحت کی ہیلتھ ورک فورس ریڈ لسٹ میں شامل ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق ریڈ لسٹ کا مقصد قومی نظامِ صحت کو مضبوط بنانا تھا، نہ کہ افراد کے روزگار کو محدود کرنا۔ بڑھتی بے روزگاری کے باوجود نہ سی پی ایس پی اور نہ ہی وزارتِ قومی صحت نے پاکستان کی اس فہرست میں شمولیت کو مؤثر انداز میں چیلنج کیا۔

طبی تنظیموں اور سینئر معالجین نے اب سی پی ایس پی کے صدر اور اعلیٰ قیادت کے استعفے کا مطالبہ بھی شروع کر دیا ہے۔
جیسا کہ ڈیلی دی ڈیسٹینیشن اور اسلام آباد میل سمیت مختلف ادارے پہلے ہی رپورٹ کر چکے ہیں، سی پی ایس پی کی ساکھ کا بحران برسوں سے پنپ رہا ہے، جبکہ برمنگھم کا معاملہ ناقدین کے مطابق مسلسل بدانتظامی کا ناگزیر نتیجہ ہے۔

ہزاروں پاکستانی ڈاکٹروں کے لیے اس بحران کی قیمت ذاتی اور ناقابلِ واپسی ہے، جن میں ضائع ہوتے مواقع، رُکے ہوئے کیریئر اور بیرونِ ملک ساکھ کو نقصان شامل ہے۔ ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ فوری اصلاحات کے بغیر سی پی ایس پی عالمی سطح پر غیر متعلقہ امتحانی ادارہ بننے کے خطرے سے دوچار ہے۔

سی پی ایس پی کے صدر سے رابطے کی متعدد کوششیں کی گئیں، تاہم تاحال کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

Read in English: Doctors urge Government and CPSP to save UK opportunity

Share This Article
1 تبصرہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے