پناہ کے سیکریٹری جنرل چوہدری سنہ اللہ غمّان نے راولپنڈی انسٹی ٹیوٹ برائے کارڈیالوجی کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر قربان حسین خان کے حوالے پہلے بچے کو سرجری کے لیے منتقل کیا۔ یہ اولین قدم اس نئی شراکت داری کا عملی اظہار ہے جسے معالجہ کے شعبے میں ضرورت مند بچوں کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔پاکستان میں دل اور متعلقہ امراض تشویشناک رفتار سے بڑھ رہے ہیں اور علاج کی مہنگائی نے عام آدمی کے لیے سہولت محدود کر دی ہے۔ اندازہ ہے کہ سالانہ تقریباً دو لاکھ چالیس ہزار سات سو بیس افراد دل کی بیماریوں کے باعث اپنی زندگیاں کھو دیتے ہیں اور اس مہنگے علاج کی وجہ سے بہت سے مستحق مریض علاج سے محروم رہ جاتے ہیں۔ پناہ ایسے خاندانوں کی مدد کے لیے سنجیدہ کوششیں کر رہا ہے تاکہ علاج تک رسائی ممکن بنے۔پناہ نے بچوں کے قلبی معاملات میں مدد کے دائرہ کار کو بڑھاتے ہوئے راولپنڈی انسٹی ٹیوٹ برائے کارڈیالوجی کے ساتھ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔ اس معاہدے کے تحت پناہ اب آرمد فورسز انسٹی ٹیوٹ برائے کارڈیالوجی، پی این ایس شفا ہسپتال اور راولپنڈی انسٹی ٹیوٹ کے مستحق بچوں کی بچوں کی دل کی سرجری کا انتظام کرے گا تا کہ مالی رکاوٹیں علاج میں رکاوٹ نہ بن سکیں۔ڈاکٹر قربان حسین خان نے کہا کہ راولپنڈی انسٹی ٹیوٹ برائے کارڈیالوجی اس مشن میں پناہ کے شانہ بشانہ کام کرے گا اور مستحق بچوں کو بہترین طبی خدمات فراہم کرنے کے لیے ہر ممکن تعاون کیا جائے گا۔ اسپتال انتظامیہ اور پناہ کے درمیان یہ تعاون بچوں کی صحت کی بہتری میں نمایاں کردار ادا کرے گا۔پناہ کے سیکریٹری جنرل چوہدری سنہ اللہ غمّان نے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر قربان حسین خان کے ہمراہ راولپنڈی انسٹی ٹیوٹ میں ایک دل کے مریض کو سرجری کے لیے داخل کروایا اور اس اقدام کو ضرورت مند بچوں کے لیے بڑی امید قرار دیا۔ پناہ کا موقف ہے کہ کوئی بھی بچہ مالی مشکلات کی وجہ سے زندہ رہنے کے مواقع سے محروم نہ ہو، اس باعث ادارہ اپنے وسائل اور شراکت داروں کے ذریعے بچوں کی دل کی سرجری کی فراہمی کو ترجیح دے رہا ہے۔پناہ کے عہدیداران نے راولپنڈی انسٹی ٹیوٹ برائے کارڈیالوجی کی انتظامیہ اور طبی عملے کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ آئندہ بھی اس نوعیت کے تعاون سے مزید مستحق مریضوں کو زندگی بچانے والی سرجریز فراہم کی جائیں گی۔
