رکن قومی اسمبلی شہلا رضا نے وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ہاکی پر ایڈہاک کمیٹی لگا کر پاکستان ہاکی فیڈریشن کا غیر جانبدار عبوری صدر نامزد کریں تاکہ فیڈریشن میں صاف و شفاف انتخابات کروائے جا سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے موجودہ صدر منتخب نہیں بلکہ نامزد کردہ ہیں اور اس وجہ سے ادارے کی شفافیت خطرے میں ہے۔اسلام آباد کے نیشنل پریس کلب میں منعقدہ خبری کانفرنس میں شہلا رضا کے ہمراہ ملک کے نامور اولمپئینز شہناز شیخ، سمیع اللہ، کلیم اللہ، حنیف خان، ناصر علی، وسیم فیروز، محمد شکیل عباسی، سید حیدر حسین، نعیم اختر خان اور ایاز محمود سمیت ملک بھر کی ہاکی فیڈریشنز کے عہدیداران موجود تھے۔ انہوں نے مشترکہ طور پر کہا کہ صورتحال غیر معمولی ہے اور فوری مداخلت ضروری ہے۔شہلا رضا نے بتایا کہ طارق بگٹی کو کلبوں کی سکروٹنی اور الیکشن کروانے کا ٹاسک دیا گیا تھا مگر انہوں نے خود کو صدر منتخب کروالیا جبکہ قانونی طور پر نگراں یا عبوری افراد انتخابات میں حصہ نہیں لے سکتے۔ اس مسئلے نے پاکستان ہاکی فیڈریشن کی شفافیت پر سوالات اٹھا دیے ہیں اور کھلاڑی و کلبوں میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔پاکستان سپورٹس بورڈ کی جانب سے کلبز کی یکطرفہ سکروٹنی کو رد کرنے اور فیڈریشن کی مالی ساکھ پر اٹھائے گئے سوالات نمایاں رہے۔ شہلا رضا نے کہا کہ ایک پورٹل کے ذریعے بعض من پسند کلبز کی رجسٹریشن کا عمل بھی سامنے آیا ہے جسے واضح تحقیقات کے بغیر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان سپورٹس بورڈ نے حقائق سامنے رکھے تو ہاکی کی صورتِ حال پر گہری تشویش لاحق ہے۔سابق اولمپئین شہناز شیخ نے کہا کہ وزیراعظم کی بنائی گئی کمیٹی نے سفارش کی تھی کہ غیر جانبدار نگران اور عبوری قیادت کے تحت ملک بھر کے کلبز کی مکمل سکروٹنی کروا کر شفاف انتخابات منعقد کروائے جائیں۔ ان کا مؤقف تھا کہ اگر انتخابات شفاف نہ ہوں تو پاکستان ہاکی کا سنہرا دور واپس نہیں آ سکے گا۔سابق کھلاڑی سمیع اللہ نے کہا کہ پچھلے بیس برس سے قومی کھیل بحران کا شکار ہے، جب ٹیم بین الاقوامی درجہ بندی میں بیس کے آس پاس ہو گی تو اسپانسرز بھی دور رہیں گے۔ انہوں نے زور دیا کہ اچھے کلبز کو سامنے لا کر اور ہر کلب کی درست جانچ کر کے پاکستان ہاکی فیڈریشن کو مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔شہلا رضا نے آخر میں وزیر اعظم سے پرزور اپیل کی کہ ہاکی میں عبوری غیر جانبدار صدر کے تقرر کے ذریعے فوری طور پر فیڈریشن کے شفاف انتخابات کا راستہ کھولا جائے تاکہ کھلاڑیوں کے مسائل حل ہوں، روزانہ الاؤنس کے واجبات اور ادارتی شفافیت یقینی بنائی جا سکے اور پاکستان ہاکی کا دوبارہ عروج ممکن ہو۔
