طلبہ کو کاروباری ذہنیت اپنانی چاہیے۔ ڈاکٹر احمد خاور شہزاد، ڈی سی او، پنجاب سنٹر آف ایکسیلینس آن سی وی ای

newsdesk
4 Min Read
پیر مہر علی شاہ ارِڈ یونیورسٹی راولپنڈی میں نوجوانوں کے انتہا پسندی کے تدارک میں کردار کے موضوع پر سیمینار، ماہرین نے رہنمائی اور تجاویز دیں

طلبہ کو کاروباری ذہنیت اپنانی چاہیے۔ ڈاکٹر احمد خاور شہزاد، ڈی سی او، پنجاب سنٹر آف ایکسیلینس آن سی وی ای

ہمارے طلبہ پاکستان کا مثبت اور پُرامن تشخص دنیا کے سامنے اجاگر کرتے رہیں گے۔ پروفیسر ڈاکٹر قمرالزمان، وائس چانسلر بارانی زرعی یونیورسٹی راولپنڈی

پیر مہر علی شاہ بارانی زرعی یونیورسٹی راولپنڈی کے پالیسی ڈائیلاگ فورم کے زیرِ اہتمام ’’ انتہا پسندی کے انسداد اور تدارک میں نوجوانوں کا کردار‘‘ کے عنوان سے ایک بصیرت افروز سیمینار کا انعقاد کیا گیا، جس میں کثیر تعداد میں طلبہ، اساتذہ، ڈینز اور ڈائریکٹرز نے شرکت کی۔ پنجاب سنٹر آف ایکسیلینس آن سی وی ای (CVE) کے ڈی سی او ڈاکٹر احمد خاور شہزاد تقریب کے مہمانِ خصوصی تھے، جبکہ دیگر مقررین میں نیشنل انسٹیٹیوٹ آف سائیکالوجی اسلام آباد کی ڈائریکٹر ڈاکٹر روبینہ اور نیشنل ایکسپرٹ برائے ڈی ریڈیکلائزیشن ڈاکٹر نمرہ اشفاق شامل تھیں۔ یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور پالیسی ڈائیلاگ فورم کے سرپرستِ اعلیٰ پروفیسر ڈاکٹر قمرالزمان نے مہمانِ خصوصی اور شرکاء کو خوش آمدید کہا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مہمانِ خصوصی ڈاکٹر احمد خاور شہزاد نے یونیورسٹی کے طلبہ کے نظم و ضبط، جذبے اور مثبت طرزِ عمل کو سراہا۔ انہوں نے یونیورسٹی کی جدید تحقیقی و تعلیمی کاوشوں، جیسے سینٹر آف پریسیژن ایگریکلچر، پاک چائنہ تحقیقی سنٹر برائے موثر آبی ٹیکنالوجیز اور نیشنل سنٹر آف انڈسٹریل بائیوٹیکنالوجی کو پاکستان کی علمی و تکنیکی ترقی کی علامت قرار دیا۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ کاروباری سوچ اپنائیں اور اپنے جوش و توانائی کو ایک پُرامن اور خوشحال پاکستان کی تعمیر میں صرف کریں۔

وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر قمرالزمان نے اپنے خطاب میں کہا کہ بارانی زرعی یونیورسٹی کے طلبہ امن و ہم آہنگی کے حقیقی سفیر ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ یونیورسٹی میں اساتذہ اور انتظامیہ باہمی مشاورت سے مختلف پالیسی اقدامات کا جائزہ لے کر مستقبل کے منصوبے تشکیل دیتے ہیں۔ ڈاکٹر قمرالزمان نے یقین ظاہر کیا کہ بارانی زرعی یونیورسٹی کے طلبہ پاکستان کا مثبت اور پُرامن تشخص دنیا کے سامنے اجاگر کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتے رہیں گے۔

ڈاکٹر روبینہ اور ڈاکٹر نمرہ اشفاق نے اپنے خطاب میں نوجوانوں کو درپیش نفسیاتی و سماجی چیلنجز پر روشنی ڈالی اور انہیں انتہا پسندانہ نظریات سے محفوظ رکھنے کے لیے ذہنی مضبوطی اور مثبت سوچ پیدا کرنے کی حکمتِ عملیاں بنانے پر زور دیا۔

تقریب کے کوآرڈینیٹر پروفیسر ڈاکٹر غلام حسین بابر نے نوجوانوں میں شمولیت، امید اور برداشت کے فروغ پر زور دیا۔ انہوں نے طلبہ کو تلقین کی کہ وہ پاکستان کی تابناک تاریخ پر فخر کریں اور مایوسی و منفی سوچ سے گریز کریں۔ سیمینار کا اختتام سوال و جواب کے دلچسپ سیشن پر ہوا جس میں طلبہ نے امن و سماجی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔

Read in English: Students Should Adopt an Entrepreneurial Mindset. Dr. Ahmad Khawar Shahzad, DCO Punjab Center of Excellence on CVE

Share This Article
1 تبصرہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے