سابق صوبائی وزیر ایس ایم تنویر نے عالمی معاشی فورم کی پاکستان کے بارے میں حالیہ رپورٹ کو انتہائی تشویشناک قرار دیا اور خبردار کیا کہ اگر موجودہ رجحان برقرار رہا تو ہمیں بین الاقوامی مالیاتی ادارے کے پاس واپس جانا پڑے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستانی معیشت کو فوری طور پر سنبھالنے کے اقدامات ناگزیر ہیں۔تنویر نے بتایا کہ گزشتہ چند برسوں میں ملک میں ایک سو چالیس سے ایک سو پچاس بڑے ٹیکسٹائل یونٹس بند ہو چکے ہیں، جس کی وجہ سے صنعتوں کی پیداوار اور برآمدی صلاحیت نمایاں حد تک متاثر ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریئل اسٹیٹ کا شعبہ ٹیکسوں اور پالیسیاں کی وجہ سے تباہی کے دہانے پر ہے اور اس کے بند ہونے سے تقریباً چالیس مختلف صنعتیں براہِ راست متاثر ہوئی ہیں۔انہوں نے نشاندہی کی کہ صنعتوں کے بند ہونے کے سبب لاکھوں افراد روزگار سے محروم ہو رہے ہیں اور یہ سلسلہ جاری رہا تو ملک میں بے روزگاری میں مزید اضافہ ہوگا۔ پاکستانی معیشت کی بحالی کے لیے انہوں نے تجویز دی کہ موجودہ شرح سود کو ساڑھے دس فیصد سے کم کر کے جون تک چھ فیصد تک لایا جائے تاکہ قرضہ جات کی لاگت کم ہو اور صنعتیں دوبارہ چل سکیں۔توانائی کے حوالے سے تنویر نے کہا کہ ملک میں فی یونٹ ریٹ ساڑھے بارہ سینٹ ہے جبکہ خطے کے دیگر ممالک میں یہ چھ سے سات سینٹ کے درمیان ہے، جس سے مقامی صنعتیں غیر مقابلانہ صورتحال کا شکار ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ملک میں سات ہزار پانچ سو میگاواٹ اضافی بجلی موجود ہے اور ان کی کیپسٹی چارجز بھی ادا کی جا رہی ہیں، جو صنعتی سیکٹر پر اضافی مالی بوجھ ڈال رہی ہیں۔تاجر تنظیم کے نمائندوں نے بجلی کے مراعاتی پیکج کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کسی صنعت کو بائیس روپے فی یونٹ کے حساب سے بل نہیں آیا بلکہ وصولیاں پینتیس روپے فی یونٹ کے مطابق ہو رہی ہیں، جس نے کاروباری لاگت میں اضافہ کر دیا ہے۔ذکی اعجاز، تاجر تنظیم کے نائب صدر، نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر ملک میں اقتصادی ایمرجنسی نافذ کی جائے تاکہ مالیاتی دباؤ کو کم کیا جا سکے اور صنعتیں بچائی جا سکیں۔ سینئر کاروباری رہنما ظفر بختاوری نے کہا کہ جب تک اقتصادی استحکام نہ آئے گا سیاسی استحکام کا حصول بھی مشکل ہوگا۔ طارق جدون، تاجر تنظیم کے دیگر نائب صدر، نے حکومت سے اپیل کی کہ وہ کاروباری برادری کے مسائل کو فوری طور پر حل کرے تاکہ مزید صنعتیں بند ہونے سے روکی جا سکیں۔سابق وزیر نے زور دے کر کہا کہ جو صنعتیں بند ہو چکی ہیں یا ملک چھوڑ گئی ہیں وہ واپس نہیں آئیں گی، اس لیے فوری فیصلے لینے کی ضرورت ہے تاکہ بچی ہوئی صنعتوں کو بچایا جا سکے اور پاکستانی معیشت کو مستحکم کیا جا سکے۔
