این آر ای ایک معیاری امتحان ہے، مریضوں کے تحفظ کے لیے شفافیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا

newsdesk
4 Min Read
نیشنل یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز نے قومی رجسٹریشن امتحان کی شفافیت، 60 فیصد پاسنگ معیار اور دوبارہ ٹوٹلنگ کی سہولت کی وضاحت کی۔

این آر ای ایک معیاری امتحان ہے، مریضوں کے تحفظ کے لیے شفافیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا

اسلام آباد: نیشنل یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز (NUMS) راولپنڈی کو نیشنل رجسٹریشن ایگزامینیشن (NRE) کے انعقاد کی ذمہ داری سونپی گئی ہے تاکہ امتحانی عمل میں شفافیت، دیانت داری اور ساکھ کو یقینی بنایا جا سکے۔ NUMS گزشتہ دو برس سے این آر ای منعقد کر رہا ہے اور پرچہ سازی، نتائج کی تیاری اور حتمی اعلان کی مکمل ذمہ داری اسی ادارے پر عائد ہے۔

وضاحتی بیان کے مطابق این آر ای دو مراحل میں سال میں کم از کم دو مرتبہ منعقد کیا جاتا ہے، جو منظور شدہ این آر ای معیارات، اسٹرکچر اور نصاب کے مطابق ہوتا ہے۔ یہ تمام تفصیلات پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (PM&DC) کی سرکاری ویب سائٹ پر دستیاب ہیں۔ این آر ای کا نصاب پاکستان میں ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس کے نصاب کے مساوی ہے۔ امیدواروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ کسی بھی شکایت یا تحفظات کی صورت میں آن لائن پورٹل کے ذریعے درخواست جمع کروائیں۔

بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ نیشنل رجسٹریشن ایگزامینیشن مکمل طور پر نیشنل یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز (NUMS) راولپنڈی کے تحت منعقد کی جاتی ہے۔ پرچہ سازی، امتحان کا انعقاد، جانچ پڑتال، نتائج کی تیاری اور اعلان سمیت این آر ای اسٹیپ ون کے تمام مراحل NUMS کی ذمہ داری ہیں، جبکہ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا امتحانی پرچوں یا نتائج کی تیاری میں کوئی براہِ راست کردار نہیں۔

این آر ای کے نتائج سے متعلق پالیسی واضح اور شفاف ہے۔ NUMS بروقت امتحان کے انعقاد اور نتائج کے اعلان کا پابند ہے۔ حالیہ این آر ای اسٹیپ ون کے نتائج PM&DC کی ویب سائٹ پر جاری کیے جا چکے ہیں، جبکہ تفصیلی نمبرز امیدواروں کو PM&DC کے سرکاری آن لائن پورٹل کے ذریعے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ این آر ای میں کامیابی کا معیار 60 فیصد مقرر ہے اور اس میں منفی مارکنگ نہیں کی جاتی۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ PM&DC امیدواروں کو نتائج کی ری ٹوٹلنگ کے لیے درخواست دینے کا موقع بھی فراہم کرتا ہے۔ دسمبر 2025 میں منعقد ہونے والے این آر ای کے لیے صرف دو امیدواروں نے ری ٹوٹلنگ کی درخواست دی۔

قومی ریگولیٹری ادارے کی حیثیت سے PM&DC نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ امتحانی عمل کے کسی بھی مرحلے پر کسی قسم کا امتیازی سلوک نہیں برتا گیا۔ تمام طریقۂ کار شفاف، مضبوط اور بین الاقوامی و قومی بہترین روایات کے مطابق ہیں تاکہ انصاف، احتساب اور معیار کو یقینی بنایا جا سکے۔ امتحان کی شفافیت سے متعلق تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دے کر مسترد کر دیا گیا ہے۔

بیان کے آخر میں واضح کیا گیا کہ فارن میڈیکل گریجویٹس (FMGs) کے لیے نیشنل رجسٹریشن ایگزامینیشن ایک پارلیمانی قانون کے تحت لازمی قرار دی گئی ہے، جس کا مقصد پاکستان میں طبی و دندان سازی کی تعلیم اور پیشہ ورانہ خدمات کے معیار، یکسانیت اور شفافیت کو یقینی بنانا ہے۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے