ایف ایم جیز کا نیشنل پریس کلب میں پی ایم ڈی سی پر امتحانی دھاندلی، اور توہینِ عدالت کے الزامات، لانگ مارچ کی وارننگ
اسلام آباد (ندیم تنولی): فارن میڈیکل گریجویٹس (FMGs) نے نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (PMDC) اور اس کے صدر ڈاکٹر رضوان تاج پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے نیشنل رجسٹریشن ایگزامینیشن (NRE) میں منظم دھاندلی، نتائج میں رد و بدل، مالی استحصال، سابقہ قوانین پر نئے ضابطوں کے اطلاق اور عدالتی احکامات کی مبینہ خلاف ورزی کا الزام لگایا۔ ڈاکٹرز نے خبردار کیا کہ اگر سات دن کے اندر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو پی ایم ڈی سی ہیڈ کوارٹر تک ملک گیر لانگ مارچ کیا جائے گا۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان فارن ڈاکٹر میڈیکل گریجویٹس کے صدر ڈاکٹر طاہر خان سکندری نے کہا کہ این آر ای ون امتحان کو دانستہ طور پر ناکامی کا ذریعہ بنا دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا
کہ تقریباً 7 ہزار 300 امیدواروں میں سے اندرونی اعداد و شمار کے مطابق صرف 200 کے قریب امیدوار حقیقی طور پر کامیاب ہوئے، جو پی ایم ڈی سی کی جانب سے جاری کردہ بلند کامیابی کے دعوؤں کے برعکس ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ہفتوں تک اسکور کارڈز جاری نہیں کیے گئے اور نہ ہی کاربن کاپیز یا آنسر کیز فراہم کی گئیں، جو بین الاقوامی امتحانی معیار کے خلاف ہے۔
ڈاکٹر عبد الرحمن گجر اور ڈاکٹر سمر نے کہا کہ ان کے پاس ایسے شواہد موجود ہیں جن میں پہلے “نل” قرار دیے گئے امیدواروں کو بعد میں پاس دکھایا گیا، جبکہ 119 نمبر لینے والے امیدواروں کو فیل قرار دیا گیا۔ ڈاکٹر سمر کے مطابق احتجاج کے پیغامات وائرل ہونے کے بعد راتوں رات نتائج تبدیل کیے گئے، جو میرٹ کے بجائے دباؤ کے تحت کی گئی ہیرا پھیری ہے۔
مالی بے ضابطگیوں کے الزامات بھی پریس کانفرنس کا مرکزی نکتہ رہے۔ افغانستان سے تعلق رکھنے والے گریجویٹس کی نمائندگی کرتے ہوئے ڈاکٹر وقاص اکبر نے الزام لگایا کہ پی ایم ڈی سی غیر ملکی جامعات سے “ری ایویلیوایشن” اور ریکگنیشن کے نام پر 10 سے 20 ہزار امریکی ڈالر طلب کرتا ہے، جو محض پیسے کمانے کا طریقہ ہے۔ ڈاکٹر اسما اور ڈاکٹر گجر نے فی امیدوار 20 ہزار روپے امتحانی فیس کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس کے عوض امیدواروں کو نہ مناسب سہولیات ملتی ہیں اور نہ کوئی احتسابی نظام موجود ہے۔ ڈاکٹر وقاص اکبر نے مزید الزام لگایا کہ پروویژنل رجسٹریشن میڈیکل پروگرام کے تحت جمع کروائی گئی فیس کا غلط استعمال کیا گیا اور ہاؤس جاب نہ دے کر جھوٹے وعدے کیے گئے۔
ڈاکٹرز نے پی ایم ڈی سی پر غیر قانونی طور پر سابقہ پالیسیوں پر نئی شرائط لاگو کرنے کا بھی الزام لگایا۔ ڈاکٹر طاہر خان سکندری اور ڈاکٹر وقاص اکبر کے مطابق محدود امتحانی کوششیں اور ای سی ایف ایم جی ریکگنیشن جیسی شرائط ان طلبہ پر لاگو کی گئیں جنہوں نے پہلے کے نظام کے تحت داخلہ لیا یا گریجویشن مکمل کی۔ ڈاکٹر وقاص اکبر نے کہا کہ ڈبلیو ایچ او اور ڈبلیو ایف ایم ای سے منظور شدہ جامعات کے گریجویٹس کو امتحانات سے روکنا امتیازی اور غیر قانونی عمل ہے۔
پی ایم ڈی سی کی گورننس اور اہلیت پر بھی سوالات اٹھائے گئے۔ ڈاکٹر عدنان نے مفادات کے ٹکراؤ کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر رضوان تاج بیک وقت پی ایم ڈی سی کے صدر اور پمز کے ڈین ہیں اور کونسل چلانے کی اہلیت نہیں رکھتے۔ ڈاکٹر سمر نے دعویٰ کیا کہ پی ایم ڈی سی حکام اینگوف میتھڈ کی درست وضاحت کرنے سے قاصر ہیں، جسے بڑے پیمانے پر ناکامی کا جواز بنایا جا رہا ہے۔ ڈاکٹر عدنان نے یہ بھی الزام لگایا کہ اعلیٰ عدلیہ کے احکامات کو نظر انداز کیا جا رہا ہے، جو توہینِ عدالت کے مترادف ہے، جبکہ اختلافی آوازوں کو دبانے کے لیے پی ایم ڈی سی کے سوشل میڈیا پیجز پر کمنٹس بند کر دیے گئے ہیں۔
مقررین نے فارن میڈیکل گریجویٹس کے ساتھ امتیازی سلوک کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ایم آر سی پی، یو ایس ایم ایل ای اور پی ایل اے بی جیسے سخت بین الاقوامی امتحانات پاس کرنے اور قومی صحت ایمرجنسیز میں خدمات انجام دینے کے باوجود ایف ایم جیز کو “اچھوت” سمجھا جا رہا ہے۔
پریس کانفرنس کے اختتام پر مطالبہ کیا گیا کہ فوری طور پر آنسر کیز اور کاربن کاپیز جاری کی جائیں، پاسنگ مارکس کو بین الاقوامی معیار کے مطابق 50 فیصد کیا جائے، امتحانات کسی خودمختار ادارے کے حوالے کیے جائیں اور پروویژنل رجسٹریشن بحال کر کے گریجویٹس کو ہاؤس جاب کا موقع دیا جائے۔
ڈاکٹر طاہر خان سکندری نے خبردار کیا کہ اگر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو ہزاروں ڈاکٹر سڑکوں پر نکلیں گے اور اسے میرٹ، قانون اور طبی پیشہ ورانہ وقار کی جنگ قرار دیا۔
دریں اثنا، فارن میڈیکل گریجویٹس کی پریس کانفرنس کے بعد پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل نے ایک وضاحتی بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ نیشنل رجسٹریشن ایگزامینیشن نیشنل یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز (NUMS) کے تحت منظور شدہ معیار کے مطابق آزادانہ طور پر منعقد کیا جاتا ہے، جس میں 60 فیصد پاسنگ کریٹیریا اور شفاف جانچ کا نظام موجود ہے۔ پی ایم ڈی سی کے مطابق پیپر سیٹنگ یا نتائج کی تیاری میں کونسل کا کوئی کردار نہیں اور تمام الزامات بے بنیاد اور مسترد کیے جاتے ہیں۔
Read in English: FMGs Protest at Press Club Over NRE Allegations
Copied From: FMGs allege PMDC exam fraud and extortion, threaten nationwide long march

