وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے اسلام آباد کے سیکٹر جی سیون میں پیش آئے گیس دھماکے سے متاثرہ گھر کا دورہ کر کے متاثرہ عیسائی خاندان سے رودررو گفتگو کی اور فوری امدادی اقدامات کا اعلان کیا۔ وزیر نے کہا کہ یہ واقعہ ایک بڑا سانحہ ہے اور پوری قومی یکجہتی کے ساتھ متاثرین کے غم میں شریک ہیں۔سردار محمد یوسف نے بتایا کہ جو افراد واقعہ میں انتقال کر چکے ہیں اُن کے لواحقین کو فی کارروائی پانچ لاکھ روپے کی مالی امداد بھیجی جائے گی جبکہ زخمیوں کو وزارت کی جانب سے ہر فرد کو پچاس ہزار روپے فوری طور پر فراہم کیے جائیں گے۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ یتیم بچی کے جہیز کے لیے وہ خود اپنے خصوصی فنڈ سے مالی معاونت کریں گے۔وزیر نے کہا کہ حادثے کی تفصیلات وزیراعظم تک پہنچائی جائیں گی اور وزارت مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی جو کچھ بھی کر سکتی ہے وہ کرے گی۔ انہوں نے بتایا کہ وزارت کے تمام ذمہ دار افسران جائے وقوع پر موجود ہیں اور متاثرین کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں۔سردار محمد یوسف نے کہا کہ یہاں شادی کا سماں تھا جو اچانک غم میں بدل گیا، اس واقعہ نے ہم سب کو حفاظتی اقدامات کی اہمیت اور لاپروائی کے مہلک نتائج کی طرف متوجہ کیا ہے۔ وزیر نے آگاہی مہم چلانے کی بھی یقین دہانی کرائی تاکہ آئندہ ایسے سانحات سے بچاؤ ممکن بنایا جا سکے۔وزیر نے اس موقع پر بتایا کہ اس قومی المیے نے مختلف مذاہب اور طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد کو متاثر کیا ہے اور ہمیں اس صورت حال میں متحد رہ کر متاثرہ برادری کی بازسازی اور دوبارہ آبادکاری کے لیے حکومتی ہدایات جاری کرنی ہوں گی۔ سردار محمد یوسف نے کہا کہ ڈاکٹر طارق فضل چوہدری، کھیل داس کوہستانی اور چیئرمین سی ڈی اے پہلے بھی جائے وقوع پر پہنچ چکے ہیں اور تمام متعلقہ ادارے مل کر کام کر رہے ہیں۔وزیر نے متفقہ انداز میں کہا کہ متاثرہ گھر کی بحالی اور علاقے کی تعمیر نو کے لیے حکومت اقدامات کرے گی اور واقعہ کی مکمل تفصیلات مرتب کر کے اعلیٰ حکام کو فراہم کی جائیں گی تاکہ متاثرین کو جلد از جلد ریلیف پہنچ سکے۔ گیس دھماکہ کے اس واقعے نے حفاظتی شعور بڑھانے اور رہائشی مقامات میں حفاظت کے ضوابط کی پاسداری کو یقینی بنانے کی ضرورت کو اجاگر کیا ہے۔
