تھیٹر ورکشاپ نے تربیتی معیار بلند کر دیے

newsdesk
3 Min Read
پاکستان قومی کونسل برائے فنونِ لطیفہ کی تین روزہ تھیٹر ورکشاپ نے اداکاری اور اسٹیج تربیت میں نئے معیارات قائم کیے۔

پاکستان قومی کونسل برائے فنونِ لطیفہ نے تین روزہ تھیٹر ورکشاپ کا انعقاد کیا جو معروف تھیٹر پریکٹیشنر اور تربیت کار ڈاکٹر وقار عظیم کے زیرِ اہتمام منعقد ہوئی۔ اس تھیٹر ورکشاپ میں طلبہ، ابھرتے ہوئے فنکار اور تجربہ کار پیشہ ور افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی، جو اس بات کی عکاسی ہے کہ ملک میں منظم تھیٹر تعلیم کے لیے دلچسپی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ورکشاپ نے شرکاء کو عملی اور تجرباتی انداز میں اداکاری کے مختلف پہلوؤں سے روشناس کرایا۔ جسمانی زبان، چہرے کے تاثرات، آواز کا اتار چڑھاؤ، تخیل اور منظر سازی جیسے عملی مشقوں کے ذریعے شرکاء نے اپنے اظہارِ خیال کو بہتر بنانا سیکھا۔ اسی دوران ڈائریکٹنگ اور اسٹیج پروڈکشن کے اجتماعی عمل پر بھی روشنی ڈالی گئی تاکہ فنکار اور تکنیکی عملہ باہمی تعاون کے ذریعے بہتر پیش رفت کر سکیں۔محمد ایوب جمالی نے ڈاکٹر وقار عظیم کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس ورکشاپ نے تھیٹر تعلیم میں ایک نیا معیار قائم کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ شرکاء نے تکنیکی مہارتیں بہتر کرنے کے ساتھ ساتھ تھیٹر کے فنی اور سماجی پہلوؤں کو سمجھنے کا موقع بھی حاصل کیا۔شرکاء نے اس تھیٹر ورکشاپ کو متاثر کن اور بدل دینے والا قرار دیا، اور ڈاکٹر وقار عظیم کی فنی مہارت اور تخلیقی وژن کے امتزاج کو خصوصی طور پر اجاگر کیا۔ ورکشاپ کے دوران عملی سبق اور تبادلۂ خیال نے شرکاء کے تنقیدی سوچ کو بھی ابھارا، جو آئندہ پروڈکشنز کے لیے نمایاں مثبت اثرات رکھتا ہے۔تین روزہ تربیتی پروگرام کے اختتام پر شرکاء کو سرٹیفیکیٹ بھی تقسیم کیے گئے۔ تقسیمِ سرٹیفیکیٹ کی تقریب کے دوران شعبۂ پرفارمنگ آرٹس کے سربراہ سامی اللہ بلوچ نے خوبصورت انداز میں ایک نظم پیش کی جس نے محفل کو مزید معنویت دی۔ تاہم پروگرام کی حقیقی کامیابی شرکاء کی حاصل کردہ معلومات، مضبوط تنقیدی سوچ اور بڑھتی ہوئی فنی بیداری میں مضمر رہی۔پاکستان قومی کونسل برائے فنونِ لطیفہ نے ایسے معیاری تربیتی پروگرامز اور ورکشاپس جاری رکھنے کا عزم دوہرا کیا ہے تاکہ ملک بھر میں تھیٹر، پرفارمنس آرٹس اور ثقافتی تعلیم کو فروغ دیا جا سکے۔ اس تھیٹر ورکشاپ نے واضح کر دیا کہ منظم تربیت نوجوان فنکاروں اور پیشہ ور افراد دونوں کے لیے نئے مواقع اور معیار پیدا کر رہی ہے۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے