پیپرا کے تحت ای پیڈز نے خریداری میں شفافیت لائی

newsdesk
6 Min Read
پیپرا نے ای پیڈز ۲٫۰ اور قانونی و ادارہ جاتی اصلاحات کے ذریعے سرکاری خریداری میں شفافیت، احتساب اور کارکردگی کو فروغ دیا۔

پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی کی قیادت میں سرکاری خریداری کے شعبے میں ملک گیر اصلاحات قابل ذکر پیش رفت دکھا رہی ہیں جن کا محور ای پیڈز ہے۔ پیپرا نے وزیرِاعظم کے ڈیجیٹل وژن کے تحت جامع پروگرام شروع کیا جس میں ای پروکیورمنٹ کا نفاذ، قانونی ترامیم، تربیتی سرگرمیاں اور ادارہ جاتی اصلاحات شامل ہیں۔ منیجنگ ڈائریکٹر پیپرا حسنات احمد قریشی نے بتایا کہ یہ اصلاحات بین الاقوامی ماہرین کی سفارشات اور حکومتِ پاکستان کی منظوری کے بعد مرحلہ وار نافذ کی گئی ہیں۔

ای پیڈز کے تحت وفاقی سطح اور تین صوبوں میں لازمی نفاذ کے باعث اب تک ۹,۸۴۶ سرکاری ادارے، ۶۰۰ غیر ملکی کمپنیاں اور ۴۳,۰۰۰ سپلائرز اس پلیٹ فارم پر رجسٹر ہو چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں ای پیڈز پر مجموعی طور پر ۵۲۶,۲۷۱ ٹرانزیکشنز عمل میں آئیں جن کی مالیت ۱,۴۰۸٫۵۸ ارب روپے ریکارڈ کی گئی۔ ان اعداد و شمار نے خریداری کے عمل میں شفافیت اور مالی احتساب کو مؤثر انداز میں آگے بڑھایا ہے۔

پلیٹ فارم کو مختلف اداروں کے ساتھ مربوط کیا گیا ہے تاکہ ہر لین دین کی تصدیق اور نگرانی ممکن بن سکے۔ ای پیڈز اب فیڈرل بورڈ آف ریونیو، نادرا، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان، پاکستان انجینئرنگ کونسل، فنانشیل اکاونٹنگ اینڈ بجٹنگ سسٹم، صوبائی ریونیو اتھارٹیز اور ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کے ساتھ مربوط ہے جبکہ آڈیٹر جنرل، نیب، پاکستان انجینئرنگ کونسل اور مسابقتی کمیشن کے لیے خصوصی ڈیش بورڈز مہیا کیے گئے ہیں۔ اس انضمام نے ای پیڈز کو ایک ایسا نظام بنا دیا ہے جہاں ہر مرحلے پر احتساب ممکن ہے۔

پیپرا کے مطابق ای پیڈز نے مسابقت کو بڑھایا اور ملی بھگت کم کی ہے۔ آن لائن اوپن بڈنگ میں اوسطاً ۵ سے ۷ بولی دہندگان حصہ لے رہے ہیں جب کہ روایتی طریق کار میں یہ تعداد ۲ سے ۳ تک محدود تھی۔ چھوٹی خریداری اور کوٹیشنز بھی اب ای پیڈز میں درج ہوتی ہیں جبکہ شکایات کے ازالے، بلیک لسٹ کمپنیوں کی روک تھام اور خریداری میں تاخیر کی نشان دہی جیسے مؤثر طریقہ کار موجود ہیں۔قواعد کی پاسداری میں بھی نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی ہے اور ۵۰۰ ملین روپے سے زائد مالیت کی اشیا و خدمات اور ایک ارب روپے سے زائد مالیت کے تعمیری منصوبوں کی بولی براہِ راست آن لائن نشر کرنے کا عمل ممکن بنایا گیا ہے۔

حسنات احمد قریشی نے اعلان کیا کہ جدید اور صارف دوست پلیٹ فارم ای پیڈز ۲٫۰ جنوری ۲۰۲۶ میں وفاقی سطح پر لانچ ہوگا، فروری میں گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں توسیع جبکہ مارچ میں صوبائی سطح پر نفاذ یقینی بنایا جائے گا۔ مانیٹرنگ اور تجزیاتی رپورٹس جولائی سے جاری ہوں گی اور ڈونر فنڈڈ خریداریوں کو ستمبر ۲۰۲۶ تک ای پیڈز پر منتقل کرنے کا منصوبہ ہے۔ اسی طرح آن لائن پروکیورمنٹ اکیڈمی کی بنیاد اکتوبر میں رکھی جائے گی اور اوپن کانٹریکٹنگ ڈیٹا اسٹینڈرڈز کی عملدرآمد دسمبر تک مکمل کرنے کی کوشش جاری ہے۔

قانونی اصلاحات کے حوالے سے پیپرا آرڈیننس ۲۰۰۲ میں ترامیم، نئے پبلک پروکیورمنٹ رولز ۲۰۲۵ کی تیاری اور بولی دستاویزات کی نظرثانی کے عمل کے حتمی مراحل جاری ہیں۔ نئے قواعد میں خریداری کی نگرانی، شکایات کے ازالے کا آزاد نظام، لازمی ای پروکیورمنٹ و ای ڈسپوزل، سرکاری اداروں میں پروکیورمنٹ سیلز کا قیام اور پروکیورمنٹ کی پیشہ ورانہ تربیت کو باقاعدہ شمولیت دی جا رہی ہے۔

پیپرا نے ادارہ جاتی اصلاحات کے تحت اپنے ڈھانچے میں تبدیلیاں کی ہیں اور مارکیٹ سے ماہرین اور آئی ٹی پروفیشنلز کو میرٹ کی بنیاد پر بھرتی کیا ہے۔ آزاد ماہرین کے ایک پول کے قیام کا عمل بھی جاری ہے تاکہ نگرانی مزید آزاد اور مؤثر بن سکے۔ ساتھ ہی ای پیڈز ٹریننگ سینٹر اور چودہ سولہ گھنٹے فعال ہیلپ ڈیسک قائم کر کے اداروں اور سپلائرز کو مسلسل مدد فراہم کی جا رہی ہے۔

صلاحیت سازی پر توجہ کے نتیجے میں اب تک دس ہزار سے زائد افسران کو تربیت دی جا چکی ہے اور سالِ ۲۰۲۴-۲۵ کے دوران ۲,۴۹۹ سرکاری اداروں کے افسران اور سپلائرز کے نمائندے اس تربیتی پروگرام کا حصہ بن چکے ہیں۔ اس تربیتی سرگرمی میں ملک کی نمایاں جامعات بشمول نسٹ، لمز، آئی بی اے اور ائیر یونیورسٹی کا بھی تعاون شامل رہا ہے۔ پیپرا ایک جامع فریم ورک ترتیب دے رہا ہے تاکہ تربیتی ماڈیولز معیاری بنیں اور پروکیورمنٹ ماہرین کی اسناد کو مصدقہ حیثیت دی جا سکے۔

پیپرا کے مطابق یہ اصلاحات شفافیت، احتساب اور کارکردگی کو فروغ دیتے ہوئے خریداری کے ہر مرحلے میں کرپشن کے امکانات کو کم کریں گی اور ملکی سطح پر گورننس اور بین الاقوامی معیار کے مطابق پاکستان کی ساکھ کو مضبوط بنائیں گی۔ ای پیڈز کے ذریعے متوقع ہے کہ سرکاری خریداری کا عمل مزید معیاری اور جواب دہ ہوگا۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے