وفاقی ڈائریکٹوریٹ برائے تعلیم نے سرکاری تعلیمی نظام کو جدید بنانے کے لیے تعلیمی ٹیکنالوجی کو اپنانے کی رفتار میں تیزی لا دی ہے۔ سیکریٹری تعلیم جناب ندیم محبوب کی ہدایات کے تحت ڈیجیٹل مداخلت پروگرام کے تحت اسلام آباد کے ایک معروف کالج میں منعقدہ تربیتی نشست میں چار سو اساتذہ نے حصہ لیا۔یہ تربیتی نشست، جو نواں جنوری دو ہزار چھبیس کو منعقد ہوئی، عملی انداز میں دکھا رہی تھی کہ کلاس روم میں ڈیجیٹل اوزار اور آن لائن پلیٹ فارمز کو کس طرح ترتیب دے کر تدریسی مشقوں کو مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔ اس موقع پر شرکت کرنے والے اساتذہ نے مختلف تعلیمی سافٹ ویئرز، کلاس مینیجمنٹ ٹولز اور طلبہ کی شرکت بڑھانے کے طریقوں کا عملی تجربہ حاصل کیا۔سیکریٹری تعلیم نے اس پروگرام کے دوران اس بات پر زور دیا کہ تعلیمی ٹیکنالوجی انسدادِ تفاوت اور معیاری تعلیم کی فراہمی میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات شہری اور دیہی اسکولوں کے درمیان تعلیمی خلیج کو کم کرنے اور سب کے لیے مساوی مواقع فراہم کرنے میں معاون ثابت ہوں گے۔اساتذہ نے بتایا کہ ٹیکنالوجی کے استعمال سے وہ زیادہ شاگرد مرکز، دلچسپ اور حسبِ ظرف اسباق تیار کرنے کے قابل ہو رہے ہیں۔ تربیتی سیشن نے اساتذہ میں اعتماد بڑھایا اور انہیں روزمرہ تدریس میں ڈیجیٹل وسائل کو شامل کرنے کی عملی رہنمائی فراہم کی۔ اس طرح کے پروگرامز سے طلبہ کو بھی مستقبل کی ٹیکنالوجی پر مبنی ضرورتوں کے لیے بہتر طور پر تیار کرنے کی توقع ہے۔وفاقی ڈائریکٹوریٹ برائے تعلیم نے واضح کیا کہ یہ پہل محدود نہیں رہے گی بلکہ آہستہ آہستہ نظامِ تعلیم کے دیگر حصوں تک توسیع پائے گی، تاکہ تعلیمی ٹیکنالوجی وسیع پیمانے پر اپنائی جائے اور تعلیمی معیار میں مستقل بہتری آئے۔تربیتی پروگرام کے شرکاء اور ادارہ جاتی قیادت کے درمیان ہونے والی بات چیت نے اس امکان کو مضبوط کیا کہ آنے والے دنوں میں اسکولوں اور کالجز میں ڈیجیٹل مداخلت پروگرام کو مربوط طور پر نافذ کیا جائے گا، جس سے تعلیمی عمل میں شمولیت اور اثر پذیری میں اضافہ متوقع ہے۔
