سول سروس اکیڈمی میں مصنوعی ذہانت کی تربیت

newsdesk
2 Min Read
سول سروس اکیڈمی میں ابتدائی ماڈیول برائے مصنوعی ذہانت متعارف، سرکاری تربیت میں ڈیجیٹل گورننس اور انسانی صلاحیت کو مضبوط بناتا ہے۔

حکومت نے سول سروس اکیڈمی میں ابتدائی ماڈیول برائے مصنوعی ذہانت متعارف کروا کر مستقبل کے سرکاری افسران کی تیاری کو عملی شکل دینا شروع کر دیا ہے، جس کا مقصد عوامی شعبے میں ٹیکنالوجی کے ذمہ دارانہ اور مؤثر استعمال کو فروغ دینا ہے۔یہ اقدام مصنوعی ذہانت کی تربیت کو باقاعدہ نصاب کا حصہ بناتا ہے اور اسے ڈیجیٹل قوم پاکستان ایکٹ کے تحت لایا گیا تصور سمجھا جاتا ہے، تاکہ ادارہ جاتی صلاحیت اور حکمرانی کے معیار کو مضبوط کیا جا سکے۔نئے ماڈیول کا محور انسانی صلاحیت کی تعمیر ہے، جو قومی پالیسی برائے مصنوعی ذہانت کے تقاضوں کے مطابق سرکاری عملے کو اخلاقی اور ذمہ دارانہ انداز میں ٹیکنالوجی استعمال کرنے کی تربیت فراہم کرتا ہے۔ اس تربیت کا مقصد نہ صرف تکنیکی فہم بڑھانا ہے بلکہ پالیسی ساز اور عملے میں ڈیجیٹل گورننس کے اصولوں کی سمجھ بوجھ کو بھی مستحکم کرنا ہے۔اس پہل کے ذریعے ادارہ جاتی تیاری میں اضافہ ہوگا اور عوامی خدمات کی فراہمی میں کارکردگی بہتر بنانے کے واضح امکانات پیدا ہوں گے۔ تربیت میں شامل موضوعات سرکاری اداروں کو ٹیکنالوجی کے ذریعے بہتر نتائج دکھانے کے قابل بنانے پر مرکوز ہیں تاکہ ٹیکنالوجی واقعی عوامی مفاد میں قابل پیمانہ فوائد فراہم کرے۔وزارتِ اطلاعات و مواصلات کی جانب سے سول سروس اکیڈمی کے نصاب میں مصنوعی ذہانت کو شامل کرنا قابلیت پر مبنی اصلاحات کو آگے بڑھاتا ہے اور یہ قدم اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ سرکاری اہلکار نئی ٹیکنالوجیز کو ذمہ داری اور افادیت کے ساتھ بروئے کار لانے کے قابل ہوں گے۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے