متاثرین اسلام آباد نے حسن ایوب کا شکریہ ادا کیا

newsdesk
3 Min Read
متاثرین اسلام آباد الائنس نے سینئر صحافی حسن ایوب کی رپورٹنگ پر شکریہ ادا کیا، وزیراعظم نے سیکٹر ایچ سولہ سے منصوبوں کی منتقلی کے احکامات جاری کیے

آج متاثرین اسلام آباد الائنس کے ارکان نے سینئر صحافی اور تجزیہ نگار حسن ایوب سے ان کے گھر جا کر شکریہ ادا کیا اور ان کی مسلسل اور اصولی صحافتی کوششوں کو سراہا۔ متاثرین نے کہا کہ حقائق پر مبنی آواز اٹھانے کی وجہ سے ان کے مسائل اعلیٰ سطح تک پہنچ سکے ہیں اور اس ایک جانبہ رویہ کے خلاف مؤثر تاثر سامنے آیا ہے جو برسوں سے جاری تھا۔حسن ایوب نے اپنے وی لاگز اور صحافتی بیانات کے ذریعے قوم کو آگاہ کیا کہ سی ڈی اے کے سربراہ نے حقیقت کے برعکس اطلاعات وزیراعظم کو فراہم کیں جس سے اصل حق داروں کو ان کے آئینی و قانونی حقوق سے محروم رکھا گیا۔ ان کی غیرجانبدار رپورٹنگ نے متاثرین اسلام آباد کے موقف کو قوت دی اور متعلقہ حکام تک حقائق پہنچنے میں اہم کردار ادا کیا۔اسی سلسلے میں فوکل پرسن وزیراعظم یوتھ پروگرام سید ذیشان علی نقوی نے متاثرین کے زمینی حقائق اور سی ڈی اے کی جانب سے ہونے والی زیادتیوں کی تفصیلی معلومات ڈاکٹر توقیر شاہ تک پہنچائیں جنہوں نے براہِ راست وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف کو صورتحال سے آگاہ کیا۔ اس بریفنگ کے بعد وزیراعظم نے معاملے کا فوری نوٹس لیا اور متبادل انتظامات کی ہدایت دی۔وزیراعظم کی ہدایت کے نتیجے میں جناح میڈیکل کمپلیکس اور دانش یونیورسٹی کے منصوبوں کو سیکٹر ایچ سولہ سے منتقل کرنے کے احکامات جاری کیے گئے، جو متاثرین اسلام آباد کے لیے ایک تاریخی اور انصاف پر مبنی فیصلہ قرار پایا۔ متاثرین نے اسے طویل مدت کے درست ازالے کی جانب اہم قدم قرار دیا ہے۔متاثرین اسلام آباد الائنس نے وزیراعظم، ڈاکٹر توقیر شاہ، حسن ایوب اور سید ذیشان علی نقوی کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ وہ آئندہ بھی پرامن، آئینی اور قانونی راستے سے اپنے حقوق کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے۔ الائنس نے وعدہ کیا کہ ہر اس فرد اور ادارے کے ساتھ کھڑا رہے گا جو انصاف اور حق کے ساتھ کھڑا ہو گا۔حسن ایوب نے متاثرین اسلام آباد الائنس کو یقین دلایا کہ وہ آئندہ بھی متاثرین کے مسائل اعلیٰ فورمز تک پہنچاتے رہیں گے اور عوامی مؤقف کی نمائندگی میں اپنا کردار جاری رکھیں گے۔ متاثرین نے کہا کہ اب انہیں امید ہے کہ قانونی اور آئینی حقوق کی بحالی کے لیے مثبت پیش رفت دیکھنے کو ملے گی۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے