او آئی سی کومسٹیک اور یو این آئی کا او آئی سی رکن ممالک کے طلبہ کے لیے آن لائن ڈیجیٹل کورسز کا آغاز
اسلام آباد: اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کی قائمہ کمیٹی برائے سائنسی و تکنیکی تعاون (OIC-COMSTECH) نے یو این آئی اور چین کے ممتاز تکنیکی اداروں کے اشتراک سے او آئی سی رکن ممالک کے طلبہ کے لیے آن لائن ڈیجیٹل کورسز کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد مہارتوں کے فروغ، ڈیجیٹل خواندگی اور انسانی وسائل کی ترقی کو تقویت دینا ہے۔
آن لائن کورسز کی افتتاحی تقریب ورچوئل انداز میں منعقد ہوئی، جس میں او آئی سی خطے اور شراکت دار ممالک سے تعلق رکھنے والے ممتاز تعلیمی رہنماؤں، پالیسی سازوں اور صنعتی نمائندوں نے شرکت کی۔ شرکاء میں شینسی ٹیکنیکل کالج آف فنانس اینڈ اکنامکس کے صدر مسٹر چینگ شو چیانگ، ہینان انسٹی ٹیوٹ آف اکنامکس اینڈ ٹریڈ کے نائب صدر مسٹر کانگ کن، گوانگژو سونگ تیان پولی ٹیکنک کالج کے صدر مسٹر وو جیا یو، اور آئی ٹی ایم سی ٹیکنالوجی کمپنی لمیٹڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر مسٹر وانگ پینگ شامل تھے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری، کوآرڈینیٹر جنرل او آئی سی کومسٹیک، نے ڈیجیٹل تعلیم کے انقلابی کردار پر روشنی ڈالی اور کہا کہ مسلم دنیا کو درپیش موجودہ سماجی، معاشی اور تکنیکی چیلنجز سے نمٹنے میں جدید ڈیجیٹل لرننگ پلیٹ فارمز کلیدی اہمیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم ہمیشہ اسلامی تہذیب کی ترقی کی بنیاد رہی ہے اور اب ڈیجیٹل تعلیم اس روایت کو عالمگیریت اور تکنیکی جدت کے دور میں آگے بڑھا رہی ہے۔
ڈاکٹر اقبال چوہدری نے بتایا کہ یہ اقدام سرحدوں سے ماورا ہو کر طلبہ کو جوڑنے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے، جس سے معیاری تعلیم جغرافیائی حدود سے آزاد ہو کر ٹیکنالوجی اور بین الاقوامی تعاون کے ذریعے ممکن ہو رہی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پروگرام کے پہلے مرحلے میں 530 طلبہ نے داخلہ لیا ہے، جو خطے اور دنیا بھر میں اس منصوبے میں گہری دلچسپی کا مظہر ہے۔
ان کورسز میں شامل طلبہ 15 ممالک سے تعلق رکھتے ہیں جن میں صومالیہ، کینیا، نائجیریا، موریطانیہ، افغانستان، پاکستان، گیمبیا، یمن، انڈونیشیا، چاڈ، ملائیشیا، چین، متحدہ عرب امارات اور گیبون شامل ہیں، جو اس اقدام کی عالمی وسعت اور شمولیتی نوعیت کو ظاہر کرتا ہے۔
آن لائن ڈیجیٹل کورسز میں مستقبل سے وابستہ اور اہم شعبوں پر توجہ دی گئی ہے، جن میں ڈیٹا سائنس، مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل انٹرپرینیورشپ، قابلِ تجدید توانائی اور پبلک ہیلتھ شامل ہیں۔ ان شعبوں کا انتخاب طلبہ کو مارکیٹ سے ہم آہنگ مہارتیں فراہم کرنے، روزگار کے مواقع بڑھانے اور پائیدار ترقی و جدت کو فروغ دینے کے لیے کیا گیا ہے۔
تقریب میں ساؤتھ-ساؤتھ تعاون اور اکیڈمیا و صنعت کے اشتراک کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا گیا۔ یو این آئی اور آئی ٹی ایم سی ٹیکنالوجی کمپنی لمیٹڈ کو نصاب کی تیاری، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور تکنیکی معاونت میں نمایاں کردار ادا کرنے پر سراہا گیا۔
آن لائن ڈیجیٹل کورسز کا یہ آغاز او آئی سی کومسٹیک کی جانب سے او آئی سی رکن ممالک میں استعداد کار میں اضافے، علم کے تبادلے اور تکنیکی ترقی کے لیے جاری کوششوں میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے، جو تعلیم کے ذریعے جامع، پائیدار اور علم پر مبنی ترقی کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
