قومی آرٹ گیلری میں خطاطی کی شاندار نمائش

newsdesk
3 Min Read
قومی آرٹ گیلری اسلام آباد میں ۶ تا ۸ جنوری ۲۰۲۶ تک رضوان، شازیان اور شنزے بَیگ کی خطاطی نمائش کا انعقاد، صبح ۱۰ سے شام ۴ بجے تک۔

پاکستان نیشنل کونسل برائے فنونِ لطیفہ اور محکمۂ قومی ورثہ و ثقافت کی مشترکہ کوشش سے منعقدہ یہ خطاطی نمائش قومی آرٹ گیلری اسلام آباد میں کھل گئی ہے، جس میں روایتی اور جدید انداز کا حسین امتزاج پیش کیا گیا ہے۔ نمائش میں بنیادی طور پر قرآنی آیات اور پاکستانی ثقافتی حسن کو نمایاں انداز میں پیش کرنے والی تحریری تخلیقات دکھائی گئی ہیں۔افتتاحی تقریب کے مہمانِ خصوصی معروف فنکار جناب جمال شاہ تھے جنہوں نے خطاطوں رضوان بَیگ، شازیان بَیگ اور شنزے بَیگ کے کاموں کو سراہا اور کہا کہ یہ مِلانِ روایتی اور معاصر خطاطی کا ایک مدبرانہ اظہار ہے۔ جناب جمال شاہ نے خطاطی کو اسلامی فن کا کلیدی عنصر قرار دیتے ہوئے اس کی روحانیت اور پیغام رسانی کی اہمیت پر زور دیا۔نمائش میں شامل مصوروں میں رضوان بَیگ خاص طور پر معاصر کوفی رسمِ خط میں مہارت رکھتے ہیں، اور انہوں نے ترکی، بغداد اور پاکستان کے ممتاز اساتذہ سے تربیت حاصل کی ہے۔ ان کے فن پارے برٹش میوزیم اور وکٹوریا اینڈ البرٹ میوزیم جیسی بڑی جگہوں پر نمائش کے لیے پیش کیے جا چکے ہیں، جو ان کی تحقیقی اور جمع کردہ شاندار دستاویزات کی عکاسی کرتے ہیں۔شازیان بَیگ ایک محقق اور خطاط کے طور پر جانے جاتے ہیں، جنہوں نے ترکی، عراق، ایران اور شام کے مشہور ماہرین سے تربیت لی ہے۔ وہ طبی تعلیم بھی حاصل کر رہے ہیں اور بارلاس کلیکشن میں نوادرات کی تحقیق میں کردار ادا کرتے ہیں، جس سے ان کے کام میں فن اور تحقیق کا یکجہتی نظر آتی ہے۔شنزے بَیگ روایتی اسلامی عمارات سے متاثرہ جومیٹری، مجسمہ سازی، ماربلنگ اور مارکیٹری کے شعبوں میں مہارت رکھتی ہیں اور وہ بارلاس کلیکشن کے آرکائیول کیٹلاگ اسپیشلسٹ کے طور پر بھی خدمات انجام دیتی ہیں۔ ان کے کام میں روایتی ہنر اور معمارانہ تلاش کا نفیس امتزاج دکھائی دیتا ہے۔تقریب میں قومی کونسل برائے فنونِ لطیفہ کے ڈائریکٹر جنرل م۔ ایوب جمالی نے کہا کہ آج کی محفل ہمیں خطاطی کی دیرپا خوبصورتی پر سوچنے اور روایت کو عصری اظہار کے ساتھ ملانے کی دعوت دیتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستانی ثقافتی ورثے کی حفاظت اور ترویج میں ایسے پروگرام اہم کردار ادا کرتے ہیں۔یہ خطاطی نمائش ۶ تا ۸ جنوری ۲۰۲۶ تک چل رہی ہے اور عوام کے لیے صبح ۱۰ بجے سے شام ۴ بجے تک کھلی رہے گی، جہاں زائرین نہ صرف قرآنی آیات اور ثقافتی موضوعات پر مشتمل تحریری فن پارے دیکھ سکتے ہیں بلکہ فنکاروں کے بیانیے اور تحقیقی پس منظر سے بھی روشناس ہو سکیں گے۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے