پنجاب فوڈ اتھارٹی سالانہ غیر محفوظ گوشت روکتی ہے

newsdesk
4 Min Read
پنجاب فوڈ اتھارٹی کی مہم کے تحت سالانہ اندازے کے مطابق ۱٫۲۵ ملین کلو غیر محفوظ گوشت بازار میں جانے سے روکا جا رہا ہے۔

سرکاری بریفنگز میں شئیر کیے گئے اندرونی ڈیٹا کے مطابق پنجاب فوڈ اتھارٹی گوشت کے شعبے میں سخت نگرانی کر رہی ہے اور سالانہ اندازوں کے مطابق تقریباً ۹۴۰۰۰ معائنے انجام دیتی ہے، جو روزانہ اوسطاً ۲۵۸ معائنوں کے برابر بنتا ہے۔ یہ معائنے گوشت فروش کی دکانوں، ذبحہ مقامات اور پروسیسنگ یونٹس پر کیے جا رہے ہیں تاکہ سپلائی چین کے اہم حصے باقاعدہ نگرانی میں رہیں۔اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ شعبے میں قواعد و ضوابط کی خلاف ورزیاں عام ہیں اور سالانہ تقریباً ۶۷۵۲۵ بہتری نوٹس جاری کیے جانے کا امکان ہے، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ تقریباً سات تہائی معائنہ شدہ مقامات پر صفائی، ذخیرہ یا ہینڈلنگ کے معاملات میں اصلاح کی ضرورت پائی جاتی ہے۔ اتھارٹی ان اقدامات کو تادیبی نہیں بلکہ اصلاحی قرار دیتی ہے تاکہ کاروباروں کو بہتر معیار اپنانے میں مدد ملے۔نفاذی کارروائیوں میں مالی جرمانے بھی شامل ہیں اور متوقع طور پر سالانہ ۹۸۵۵ فائن کیسز رجسٹر ہوں گے جس سے تقریباً ۹۴٫۹ ملین روپے کے جرمانے وصول ہونے کا امکان ہے۔ فی خلاف ورزی اوسط جرمانہ تقریباً ۹۶۳۰ روپے رہا ہے، جو بار بار خلاف ورزی کرنے والوں پر مالی دباؤ ڈالتا ہے اور آپریٹرز کو قواعد کی پاسداری کی ترغیب دیتا ہے۔گوشت کے معیار کی جانچ اس مہم کا مرکزی جزو ہے۔ سالانہ بنیاد پر معائنہ شدہ گوشت کی مقدار تقریباً ۱۹٫۲۷ ملین کلوگرام تک پہنچنے کا اندازہ ہے جن میں سے قریباً ۱٫۲۵ ملین کلوگرام کو غیر محفوظ قرار دے کر بازاری چین سے ضائع کر دیا جاتا ہے۔ یہ ضائع کرنے کی شرح ۶٫۵ فیصد بنتی ہے، جس کا مطلب ہے کہ اگر موثر نگرانی نہ ہوتی تو لاکھوں کلوگرام خطرناک گوشت صارفین تک پہنچ سکتا تھا۔شدید خلاف ورزیوں اور فوری صحت کے خطرات کی صورت میں اتھارٹی ہنگامی حفاظتی احکامات جاری کرتی ہے اور سالانہ اندازے کے مطابق ۳۶۵ ایسے احکامات نافذ کیے جاتے ہیں جن کے نتیجے میں انتہائی غیر مطمئن یونٹس کو فوری طور پر سیل کیا جاتا ہے۔ یہ قدم وہا مواقع محدود رکھا جاتا ہے جہاں عوامی صحت کو براہِ راست خطرہ لاحق ہو۔گوشت کی حفاظت کے نقطۂ نظر سے یہ مہم طبی واقعات اور آلودگی سے ہونے والی وبائی کیفیتوں کو روکنے میں اہم پیش بندی ہے۔ ایک ملین سے زائد کلو غیر محفوظ گوشت کو بازار سے ہٹانے سے خوراکی بیماریوں کے واقعات میں واضح کمی اور صحت کے نظام پر بوجھ میں کمی متوقع ہے، جبکہ صارفین کے اعتماد میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔اقتصادی لحاظ سے اس کریک ڈاؤن کے دو رخ ہیں: غیر مطابقت رکھنے والے کاروباروں پر سالانہ جرمانے تقریباً ۹۴٫۹ ملین روپے بنتے ہیں مگر ضابطوں کی پابندی، بہتر صفائی، منظم ذخیرہ اور معیاری ہینڈلنگ طویل مدت میں گوشت کے شعبے کو مضبوط کریں گے۔ بہتری نوٹسز اس بات کی علامت ہیں کہ اتھارٹی کاروباروں کو مارکیٹ سے خارج کرنے کے بجائے بحالی اور بہتری پر زور دیتی ہے۔اتھارٹی کے حکام اس ماڈل کو ملک بھر میں سب سے زیادہ سخت نگرانی قرار دیتے ہیں، جہاں کثرت معائنوں کے ساتھ مؤثر نتائج بھی دکھائی دیتے ہیں۔ معائنہ شدہ گوشت کا تقریباً ۹۳٫۵ فیصد محفوظ قرار پایا، جو اس امر کا ثبوت ہے کہ مستقل نگرانی معیاری کنٹرول فراہم کر سکتی ہے۔آئندہ کے لائحہ عمل میں اتھارٹی نے تربیت، ٹیکنالوجی پر مبنی معائنوں اور سپلائی چین کی مضبوط نگرانی کو ترجیح دی ہے تاکہ خلاف ورزیاں مزید کم ہوں اور پنجاب کو خوراکی حفاظت کے معاملے میں نمایاں صوبہ بنایا جا سکے۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے