جشن ظہور حضرت علیؑ کی کانفرنس

newsdesk
2 Min Read
نورپورشاہاں میں بری امام ہاؤس پر کانفرنس میں حضرت علی علیہ السلام کی سیرت، علم و عدل پر روشنی ڈالی گئی، مقررین نے عمل کی تلقین کی

نورپورشاہاں کے بری امام ہاؤس میں ایک کانفرنس منعقد ہوئی جس میں گیارویں شریف بھی ادا کیا گیا۔ یہ محفل حضرت علی علیہ السلام کی ولادت کی مناسبت سے منعقد کی گئی اور اس کا اہتمام خانقاہ مانسر کیمپ کے خادم راجہ سرفراز اکرم نے کیا تھا۔ موقع پر علماء، لوگوں اور مقامی رہنماؤں نے شرکت کی اور گفتگو میں سیرت و کردار پر روشنی ڈالی گئی۔راجہ سرفراز اکرم نے شرکاء سے خطاب میں کہا کہ حضرت علی علم و حکمت کا دروازہ ہیں اور اُن کی زندگی شجاعت، عدل، تقویٰ اور اخلاص کی مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ حضرت علی کی تعلیمات آج بھی زندگیاں سنوار سکتی ہیں اور ہمیں آپ کی سیرت سے رہنمائی حاصل کرنی چاہیے۔راجہ امتیاز جنجوعہ نے بتایا کہ انسان کی قدر اس کے اخلاق سے جانی جاتی ہے اور حضرت علی عدل و انصاف کی روشن مثال تھے جنہوں نے خلافت کے باوجود سادہ زندگی گزاری۔ اُنہوں نے کہا کہ حضرت علی کا کردار ہمیں انصاف اور عاجزی سکھاتا ہے۔محمد وسیم عباس نے کہا کہ حضرت علی کا دروازہ مظلوم کے لیے ہمیشہ کھلا رہتا تھا اور آپ نے ہر صورت میں حق کا ساتھ دیا۔ اُنہوں نے شرکاء پر زور دیا کہ ظلم کے خلاف آواز اٹھانا اور سچ کے ساتھ کھڑے رہنا حضرت علی کی روش ہے۔عبدالرزاق جامی نے کہا کہ اس دن کا مقصد خوشی منانا نہیں بلکہ حضرت علی کی تعلیمات کو اپنے عملی رویے کا حصہ بنانا ہے، جن میں سچ بولنا، عدل کرنا، علم حاصل کرنا، بڑوں کا احترام اور چھوٹوں سے محبت شامل ہیں۔ آپ نے کہا کہ اگر ہم حضرت علی کی سیرت پر عمل کریں تو معاشرہ امن، بھائی چارہ اور انصاف کا گہوارہ بن سکتا ہے۔محفل میں عبید اللہ نقشبندی اور دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا اور سب نے مشترکہ طور پر اس بات پر زور دیا کہ حضرت علی کی تعلیمات کو عام کرنا اور عملی طور پر اپنانا ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے