اسلام آباد میں ۳۱ دسمبر ۲۰۲۵ کو میجر جنرل ریٹائرڈ شاہد محمود کیانی نے وفاقی وزیر برائے ثقافت اور ورثہ اورنگزیب خان خچی سے ملاقات کی جس میں زبان و ثقافت کے فروغ اور تعلیمی تعاون کے امکانات پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ ملاقات کے دوران دونوں اطراف نے زبانوں کی ترویج، ثقافتی تبادلے، علمی تعاون اور مشترکہ ثقافتی منصوبوں میں تعاون کو مضبوط کرنے پر اتفاق کیا۔ریٹائرڈ شاہد محمود کیانی نے وزیر کو یونیورسٹی کے تعلیمی اور ادارہ جاتی امور سے آگاہ کیا اور کہا کہ ادارہ تعلیمی تحقیق اور آگاہی پروگرامز کے ذریعے قومی ثقافتی پالیسیوں کی معاونت کر سکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یونیورسٹی ملک بھر کے کیمپسز میں تقریباً نو ہزار طلبہ کو مفت تعلیم فراہم کر رہی ہے، اور یہ ادارہ فلاحی نوعیت کا ہے جو اپنی ضرورت کے مطابق خود وسائل پیدا کرتا ہے۔ملاقات میں یہ بھی بتایا گیا کہ قومی جامعہ جدید زبانیں گلگت بلتستان میں تعلیمی خدمات کے دائرے کو وسیع کرنے کے لیے زمین حاصل کرنے یا عمارت کرائے پر لینے کے آپشنز پر غور کر رہی ہے۔ اس اقدام سے دور دراز علاقوں میں تعلیمی رسائی بڑھانے اور مقامی ثقافتوں و زبانوں کی حفاظت میں مدد ملنے کی توقع ہے۔ریٹائرڈ کیانی نے مزید کہا کہ ادارے کے بورڈ آف گورنرز کے چیئرمین دفاعی سربراہ ہیں اور ان کی رہنمائی میں یونیورسٹی زبانوں کو ثقافت کے ضمن میں مزید فروغ دینے کے عزائم رکھتی ہے۔ بورڈ کے آئندہ اجلاس میں زبانوں کے شعبے کا نام تبدیل کر کے "زبانیں اور ثقافت” رکھنے کی تجویز پیش کی جائے گی تاکہ تعلیمی پروگرامز میں ثقافتی پہلوؤں کو واضح طور پر شامل کیا جا سکے۔ریٹائرڈ کیانی نے بتایا کہ یونیورسٹی ہر سال اپریل میں سالانہ موسمِ گرما کا میلہ منعقد کرتی ہے جہاں طلبہ اپنی مقامی ثقافتیں پیش کرتے ہیں، اور اس کا مقصد مقامی زبانوں اور روایات کو فروغ دینا ہے۔ اسی تناظر میں انہوں نے قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن کے ساتھ مشترکہ ثقافتی پروگرام شروع کرنے کی خواہش ظاہر کی تاکہ طلبہ کو ملک کے مختلف علاقائی ثقافتوں سے روشناس کرایا جا سکے۔وفاقی وزیر اورنگزیب خان خچی نے اس تجویز کو سراہا اور مشورہ دیا کہ یونیورسٹی میں اپریل کے مہینے میں ایک "ثقافتی ہفتہ” منعقد کیا جائے جو لوک میلے کی طرز پر ہو، جہاں ملک بھر کے فنکار، دستکار اور ثقافتی نمائشیں طلبہ کو روایتی ہنر اور میوزیموں کی معلومات فراہم کریں۔ وزیر نے یہ بھی آگاہ کیا کہ محکمہ نے اگست میں مارکہِ حق کے حوالے سے اکتیس پروگرامز کا انعقاد کیا تھا۔ملاقات میں سیکرٹری قومی ورثہ و ثقافت اسد رحمان گیلانی بھی موجود تھے جنہوں نے مشترکہ پروگرامز کے نفاذ اور علاقائی توسیع کے حوالے سے تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ اس گفتگو کے بعد دونوں اداروں کے درمیان زبانوں اور ثقافت کے فروغ کے عملی اقدامات کے لیے آگے بڑھنے کا عزم نمایاں رہا۔
