زنگزور کوریڈور خطے کی تقدیر بدلنے والا راستہ

newsdesk
9 Min Read

کنیکٹیویٹی کا دور اور زنگزور کوریڈور

تزئین اختر

تحریر: تزئین اختر

آج کی دنیا میں ممالک، خطوں اور براعظموں کو آپس میں جوڑنے کے لیے کنیکٹیویٹی اور کوریڈورز اولین ترجیحات میں شامل ہو چکے ہیں۔ چین کا بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (BRI) مالی وسائل اور امکانات کے اعتبار سے بلاشبہ کنیکٹیویٹی کی تاریخ کا سب سے بڑا منصوبہ ہے، تاہم یہ پہلا منصوبہ نہیں۔ انسان ہمیشہ سے دنیا کے وسائل سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کے لیے نئی راہیں تلاش کرتا آیا ہے۔ سلک روٹ اور گرینڈ ٹرنک روڈ سے لے کر آج سی پیک، مڈل کوریڈور، نارتھ ساؤتھ کوریڈور اور دیگر منصوبوں تک، یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ہم اس وقت ’’کنیکٹیویٹی کے دور‘‘ یا ’’کوریڈورز کے عہد‘‘ میں داخل ہو چکے ہیں۔

جنوبی ایشیا کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو قرونِ وسطیٰ میں گرینڈ ٹرنک روڈ نمایاں مثال ہے، جبکہ جدید تاریخ میں پاکستان، ایران اور ترکی کے درمیان آر سی ڈی (RCD) بھی علاقائی رابطے کی ایک مثال رہا ہے۔ وسیع تر تناظر میں سی پیک (چین-پاکستان-مشرقِ وسطیٰ-افریقہ) اور مڈل کوریڈور (قازقستان سے آذربائیجان اور آگے یورپ تک) بھی نمایاں منصوبے ہیں۔

یوریشیائی کنیکٹیویٹی میں زنگزور کوریڈور کو مشرق اور مغرب کے درمیان تجارت کی شہ رگ قرار دیا جا سکتا ہے۔ یہ کوریڈور آذربائیجان، ترکی اور امریکہ (TRIPP انیشی ایٹو کے ذریعے) کی توجہ کا مرکز ہے۔ زنگزور کوریڈور آرمینیا کے صوبہ سیونک سے گزرنے والا ایک مجوزہ زمینی راستہ ہے، جسے آذربائیجان اور ترکی آذربائیجان کے مرکزی حصے کو اس کے خودمختار علاقے نخجوان سے ملانے کے لیے فروغ دے رہے ہیں، جس کے نتیجے میں ترکی اور یورپ تک براہِ راست زمینی رابطہ ممکن ہو جائے گا۔ اسے ایشیا اور یورپ کے درمیان آذربائیجان کے ذریعے مشترکہ ترقی اور خوشحالی کا راستہ بھی کہا جا سکتا ہے۔

یہ کوریڈور معاشی اور جغرافیائی سیاسی اعتبار سے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے اور یوریشیائی لاجسٹکس کے لیے گیم چینجر ثابت ہو سکتا ہے، جس کے اثرات وسطی ایشیا، چین اور حتیٰ کہ پاکستان تک پہنچ سکتے ہیں، جو ایران کے ذریعے اس سے منسلک ہو سکتا ہے۔ یہ منصوبہ کسی بھی صورت علاقائی طاقتوں کے درمیان کشیدگی کا باعث نہیں بننا چاہیے۔ ایران، پاکستان کا ترکی اور آذربائیجان کے ساتھ کنیکٹیویٹی میں شراکت دار ہے، اور پاکستانی این ایل سی ٹرک کامیابی سے ایران کے راستے آذربائیجان تک سفر کر چکے ہیں۔

آذربائیجان نے اپنے ہمسایہ ممالک کو یقین دہانی کرائی ہے کہ زنگزور کوریڈور تمام خطے کے لیے معاشی فوائد اور ٹرانزٹ مواقع فراہم کرے گا۔ حالیہ عرصے میں صدر پیزشکیان اور وزیر خارجہ عراقچی سمیت اعلیٰ سطحی دوروں نے اس حوالے سے ایران کے اعتماد میں مزید اضافہ کیا ہے۔

آرمینیا اور ایران کو بھی اس منصوبے کے عالمی معاشی فوائد کو سمجھنا چاہیے۔ آرمینیا سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اسی مثبت جذبے کا مظاہرہ کرے گا جیسا کہ واشنگٹن میں دونوں ممالک کے رہنماؤں کے درمیان امن معاہدے کے وقت دیکھنے میں آیا تھا۔

ایران اور آذربائیجان اکتوبر 2023 میں ایران کے راستے نخجوان تک ٹرانسپورٹ کوریڈور پر اتفاق کر چکے ہیں، جبکہ اکتوبر 2024 میں دونوں ممالک کے ریلوے سربراہان نے آراس کوریڈور کی تعمیر پر بات چیت کی، جسے زنگزور کا متبادل قرار دیا جاتا ہے۔ اس کے باوجود، زنگزور کوریڈور کی غیر معمولی معاشی صلاحیت کے پیشِ نظر دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان اتفاقِ رائے کو مزید مضبوط کیا جا سکتا ہے۔

دوسری قرہ باغ جنگ میں شکست کے بعد، روسی ثالثی کے تحت آرمینیا نے شہریوں اور سامان کی نخجوان تک بلا رکاوٹ رسائی کی یقین دہانی کرائی تھی۔ لہٰذا آرمینیا کو اس معاہدے کی پاسداری کرتے ہوئے زنگزور کوریڈور کا حصہ بننا چاہیے، تاکہ وہ عالمی تجارت کا حصہ بن سکے، بصورتِ دیگر یہ صدی کا ایک بڑا موقع ضائع ہو سکتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ زنگزور کوریڈور آرمینیا اور ایران کو پہلے سے زیادہ قریب لاتا ہے۔ ان خدشات کی کوئی بنیاد نہیں کہ دونوں ممالک ایک دوسرے سے کٹ جائیں گے۔ دونوں کو چاہیے کہ آذربائیجان سے تصادم کے بجائے تعاون کا راستہ اپنائیں اور اس ون ون منصوبے کی تکمیل میں رکاوٹ نہ بنیں۔

زنگزور کوریڈور کے علاقائی اور عالمی تجارت کے فوائد بے پناہ ہیں اور یہ صرف آذربائیجان اور ترکی تک محدود نہیں۔ یہ ایشیا اور یورپ کے درمیان فاصلہ کم کرتا ہے، نئی تجارتی راہیں کھولتا ہے، جبکہ ایران اور آرمینیا کو اہم ٹرانزٹ ممالک بننے کا موقع دیتا ہے۔ اس کے نتیجے میں لاکھوں روزگار کے مواقع بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔

یہ کوریڈور باہمی تعلقات کو مضبوط بناتے ہوئے علاقائی ہم آہنگی اور معاشی ترقی کو فروغ دیتا ہے، اور ممکنہ طور پر علاقائی حریفوں کے درمیان امن کا باعث بھی بن سکتا ہے، کیونکہ تجارت میں شراکت داری قومی معیشتوں کو مضبوط اور عوام کی فلاح کو یقینی بناتی ہے۔

صرف 43 کلومیٹر طویل زنگزور کوریڈور، جو آرمینیا کے سیونک خطے سے گزرتا ہے، دو براعظموں کی تقدیر بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ آذربائیجان کی حدود میں یہ راستہ ہورادیز-آغبند ہائی وے سے جڑتا ہے، جبکہ ترکی میں نخجوان-اغدر-قارص ڈبل ٹریک ریلوے اور شاہراہ سے منسلک ہوتا ہے، جس کی تعمیر میں تقریباً پانچ سال لگنے کی توقع ہے۔ یہ منصوبہ سمندری راستوں پر انحصار کم اور مشرق-مغرب تجارت کو فروغ دیتا ہے۔

منصوبے کے تحت نئی ریلوے لائنز اور سڑکیں تعمیر کی جائیں گی، جن میں آذربائیجان میں ہورادیز-آغبند ریلوے شامل ہے، جو آرمینیا کے حصے (جسے ’’ٹرمپ روٹ‘‘ کہا جاتا ہے) سے جڑے گی۔ یہ راستہ ایشیا پیسیفک-یورپ، یورپ-قفقاز-ایشیا (TRACECA) اور ٹرانس کیسپین انٹرنیشنل ٹرانسپورٹ روٹ (TITR)، المعروف مڈل کوریڈور، کا حصہ ہوگا۔

وسطی ایشیائی ریاستیں بھی اس کوریڈور میں گہری دلچسپی لے رہی ہیں، کیونکہ یہ تیزی سے ترقی کرنے والے ممالک آذربائیجان، ترکی اور یورپ تک رسائی چاہتے ہیں۔ روس-یوکرین جنگ اور یورپی پابندیوں کے بعد چین بھی یورپ کے ساتھ تجارت کے لیے متبادل راستے تلاش کر رہا ہے، جس میں مڈل کوریڈور اہم کردار ادا کرتا ہے۔ زنگزور کوریڈور آذربائیجان کو براہِ راست ترکی سے جوڑ کر جارجیا کے ذریعے طویل سفر کی ضرورت ختم کر دیتا ہے، کیونکہ موجودہ باکو-تبلیسی-قارص ریلوے کے مقابلے میں یہ راستہ صرف 43 کلومیٹر طویل ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر ریلوے لائن کو آغبند تک توسیع دی جائے تو ترکی اور آذربائیجان کے درمیان فاصلہ مجموعی طور پر 343 کلومیٹر کم ہو جائے گا، جس سے وقت اور لاگت میں نمایاں بچت ہوگی۔

بین الاقوامی ماہرین زنگزور کوریڈور کو دو براعظموں کے درمیان سب سے مختصر اور مؤثر راستہ قرار دیتے ہیں، جو ٹرانس کیسپین تجارت کے لیے بے شمار مواقع پیدا کرے گا اور وسطی ایشیا و جنوبی قفقاز کو یکجا کرے گا۔ آرمینیا کے راستے نخجوان تک سڑک، مشرقی، وسطی اور جنوبی ایشیا کے ممالک کو یورپی منڈیوں تک زمینی رسائی فراہم کرے گی، جس سے ان کی تجارت اور معیشت کو تیز رفتاری سے فروغ ملے گا۔

(مصنف اسلام آباد میں مقیم صحافی ہیں اور کئی برسوں سے کنیکٹیویٹی اور جنوبی قفقاز پر لکھ رہے ہیں۔ ان سے رابطہ: tazeen303@gmail.com)

Read in English: Era of Connectivity and Zangezur Corridor

Share This Article
1 تبصرہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے