ضیاءاللہ شاہ نے کہا کہ زمانہ نے ثابت کر دیا کہ سوسائٹی کے اسلام آباد ایمپلائز کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی کے ساتھ انضمام کا فیصلہ درست تھا۔ انہوں نے بتایا کہ دو ہزار گیارہ میں اسکیم کی ازسرنو تبدیلی اور دوبارہ آغاز پر عوامی ردِ عمل مثبت رہا اور اس حوالے سے اعتماد پیدا ہوا۔سولہمنصوبہ جاتی اجلاس میں ضیاءاللہ شاہ نے کہا کہ آج ایک تاریخی دن ہے کیونکہ جموں و کشمیر کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی کی زون چار اور زون پانچ میں موجود زرعی اسکیموں کا اسلام آباد سوسائٹی میں انضمام ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوا ہے۔ پیجا، پنڈ مَلکان اور بھابر تارڑ کے علاقوں میں مجموعی اراضی چالیس ہزار سے پچاس ہزار کنال کے درمیان ہے، جس میں سے تقریباً پانچ ہزار پانچ سو کنال اراضی کوآپریٹو سوسائٹی نے دو ہزار چار سے دو ہزار سولہ کے درمیان خریدی تھی۔انہوں نے بتایا کہ مذکورہ اراضی چھوٹے چھوٹے منتشر پلاٹس کی صورت میں ہے جن کی موجودہ شکل میں ترقی ممکن نہیں تھی کیونکہ آس پاس کی زمینیں اسلام آباد سوسائٹی نے خرید رکھی تھیں، لہٰذا سوسائٹی انتظامیہ نے انضمام کا فیصلہ کیا جو بعد ازاں درست ثابت ہوا۔ ضیاءاللہ شاہ نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ہمیں آئندہ مراحل کامیابی سے مکمل کرنے کی توفیق دے۔سوسائٹی کے سیکرٹری سردار سبیل ممتاز خان نے اراکین کو انضمام کے محرکات، اب تک اٹھائے گئے اقدامات اور مستقبل کے لائحہ عمل سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ کن حالات میں یہ اراضی خریدی گئی، انٹرنل تقسیم کے مسائل اور ترقیاتی منصوبہ بندی کی ضرورتیں کیا تھیں اور ان سب امور کی روشنی میں انضمام کیوں ضروری تھا۔اجلاس میں شریک اراکین نے سوسائٹی انتظامیہ کے اس فیصلے کی مکمل حمایت کی اور کہا کہ جموں کشمیر انضمام کے ذریعے مستقبل میں اراضی کے بہتر انتظام اور منصوبہ بندی ممکن ہو سکے گی۔ اجلاس میں اراکین کی کثیر تعداد نے شرکت کی اور انتظامیہ کے ساتھ تعاون کے عزم کا اظہار کیا۔
