بیس سے چوبیس دسمبر دو ہزار پچیس تک صدر آصف علی زرداری نے عراقی صدر کی دعوت پر عراق کا سرکاری دورہ کیا۔ اس دورے کے دوران صدر نے عراقی صدر اور وزیرِ اعظم کے ساتھ ملاقاتیں کیں اور نجف اور کربلا کے مقامی حکام سے بھی بات چیت ہوئی۔صدر نے بغداد، نجف، کوفہ اور کربلا کے مقدس مزارات کی زیارت بھی کی، جو دونوں ممالک کے عوامی اور مذہبی روابط کی اہم عکاسی ہے۔ زیارت کے دوران رہنماؤں کے درمیان ایک دوستانہ ماحول رہا اور مذہبی تقدس کا بھی خصوصی احترام دیکھا گیا۔عراقی دورہ کے دوران دوطرفہ کشیدگی کم کرنے اور تعاون کے فروغ پر توجہ دی گئی۔ ملاقاتوں میں سیاسی حکمتِ عملی، اقتصادی شراکت داری، دفاعی تعاون اور ثقافتی تبادلوں کے امور پر تبادلۂ خیال ہوا، جس سے تعلقات کو مجموعی طور پر تقویت ملی۔یہ دورہ پاکستان اور عراق کے درمیان اعتماد اور باہمی احترام کو مزید مضبوط بنانے کے حوالے سے مثبت قدم قرار دیا جا رہا ہے اور مستقبل میں مشترکہ مفادات کے تحت تعاون کے نئے مواقع سامنے آنے کی توقع ظاہر کی گئی۔
