نوشہرہ میں وکلاء کے لیے قانونی صلاحیت کی مضبوطی

newsdesk
3 Min Read
نوشہرہ میں حقوقِ انسانی اور قیدی امداد کے تحت وکلاء کی تربیتی ورکشاپ میں قانونی صلاحیت اور پناہ گزینوں کے تحفظ پر زور دیا گیا

ادارہ برائے حقوقِ انسانی اور قیدیوں کی مدد کے تحفظ کے منصوبے کے تحت گزشتہ روز نوشہرہ میں وکلاء کے لیے ایک صلاحیتی تربیتی ورکشاپ منعقد ہوئی جس میں کل ۵۲ وکلاء شریک تھے جن میں ۲۸ مرد اور ۱۴ خواتین شامل تھیں۔ اس پروگرام کا مقصد مقامی قانونی برادری کی قانونی صلاحیت کو فروغ دینا اور کمزور طبقوں کے تحفظ میں وکلاء کے کردار کو مضبوط کرنا قرار دیا گیا۔حمید لطیف نے خوش آمدیدی کلمات میں ادارے کے تحت جاری کردہ مقاصد اور تحفظ سے متعلق اقدامات کا تعارف کرایا اور کہا کہ یہ تربیتی کوششیں عملی معاونت کے ساتھ قانونی مشاورت کو مربوط کریں گی۔ بعد ازاں عامر حمزہ نے بطور نمائندہ اقوامِ متحدہ کے شراکت دار شرکاء کو جاری منصوبوں اور تعاون کے اہداف سے آگاہ کیا تاکہ مقامی سطح پر مشترکہ کام کو فروغ ملے۔ورکشاپ میں تکنیکی سیشنز کو اہم مقام دیا گیا جہاں پروفیسر ندیم فرید نے انسانی حقوق، بین الاقوامی انسانی حقوقی ضوابط، آئینِ پاکستان میں بنیادی حقوق اور بین الاقوامی انسانی قانون پر تفصیلی گفتگو کی۔ ان سیشنز نے وکلاء کو نظریاتی اور آئینی بنیادیں سمجھنے میں مدد دی، جس سے ان کی قانونی صلاحیت میں واضح اضافہ متوقع ہے۔سلمان فاروق نے بین الاقوامی تحفظی فریم ورک اور مہاجرین کے تحفظ کے موضوعات پر بات کی اور ہجرت و واپسی کے سیاق و سباق میں پناہ گزینوں کے حقوق کی قانونی پیچیدگیوں پر روشنی ڈالی۔ شرکاء نے مہاجرین کے معاملے میں عدالتی اور غیر عدالتی طریقہ کار کے اطلاق پر سوالات اٹھائے اور عملی مثالوں کے ذریعے سمجھ بوجھ حاصل کی۔تقریب میں جناب میاں ارشد جان بطور صدر ضلعی بار نوشہرہ بطور مہمانِ خصوصی اور فواد بطور مہمانِ اعزاز بھی موجود رہے۔ میاں ارشد وکیل نے ادارے کی کاوشوں کی ستائش کرتے ہوئے مقامی قانونی برادری کے لیے اس نوعیت کی تربیت کی اہمیت پر زور دیا۔اختتامی موقع پر منصوبے کی سربراہ میمونہ بتول خان نے بار قیادت اور شریک وکلاء کا شکریہ ادا کیا اور مہمانِ خصوصی کی جانب سے شرکاء کو سرٹیفیکیٹس کے ذریعہ تسلیمات پہنچائی گئیں۔ اس موقع پر ادارے کی ٹیم اور شرکاء نے باہمی تعاون کے امکانات اور آئندہ پراجیکٹس پر بات چیت کی۔یہ ورکشاپ مقامی قانونی شراکت داری کو مضبوط کرتے ہوئے خاص طور پر پسماندہ اور متاثرہ کمیونیٹیز کے لیے قانونی تحفظ کے دائرہ کار کو بڑھانے کی کوششوں کا حصہ تھی۔ آئندہ بھی اسی طرح کی تربیت کے ذریعے وکلاء کی عملی قابلیت اور قانونی صلاحیت میں مزید بہتری کی توقع کی جا سکتی ہے۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے