پینٹاگون کی سالانہ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ چین نے جدید فضائی لڑاکا پلیٹ فارمز کی برآمدات میں پاکستان کو مرکزی شراکت دار کے طور پر ابھارا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ تعلق محض تجارتی لین دین نہیں بلکہ عملی اور دفاعی ہم آہنگی کا عکاس ہے، جس کا اثر جنوبی ایشیا میں ہوائی طاقت کے توازن پر پڑ سکتا ہے۔
چینی فضائی شراکت کے تحت رپورٹ یہ بھی بتاتی ہے کہ چین دسمبر دو ہزار چوبیس تک دنیا کا چوتھا بڑا اسلحہ برآمد کنندہ بن چکا ہے اور اس کی ریاستی صنعتی کمپنیاں، جنہیں عموماً اوی وی آئی سی اور نورِنکو کے نام سے پہچانا جاتا ہے، کم قیمت اور لچکدار حل فراہم کر کے ترقی پذیر ملکوں میں مقام بنا رہی ہیں۔
رپورٹ میں خاص طور پر نوٹ کیا گیا ہے کہ پاکستان وہ واحد ملک ہے جسے چین نے جدید جے دس سی لڑاکا طیارے برآمد کیے ہیں۔ مجموعی طور پر چھتیس جے دس سی طیاروں کے آرڈر دیے گئے جن میں سے بیس طیارے مئی دو ہزار پچیس تک پہنچ چکے تھے اور باقی کی ترسیل ابتدائی دو ہزار چھبیس تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔ جے دس سی چوتھی نسل کا ملٹی رول طیارہ ہے جس میں جدید اویونکس اور اے ای ایس اے طرز کا ریڈار شامل ہے، جس سے پاکستانی فضائی قوت کے آپریشنز میں نئی صلاحیتیں آئیں گی۔
اس تعاون میں محض خریداری شامل نہیں؛ پاکستان اور چین کے درمیان دفاعی صنعت میں مشترکہ پیداوار اور ٹیکنالوجی شیئرنگ بھی جاری ہے۔ جے ایف سترہ جیسے مشترکہ طور پر تیار شدہ اور ساتھ تیار کیے جانے والے ہلکے ملٹی رول طیارے پہلے ہی آذربائیجان، میانمار اور نائیجیریا کو برآمد کیے جا چکے ہیں، جس سے طویل مدتی صنعتی شراکت داری کا ثبوت ملتا ہے۔ اسی طرح پاکستان کو کائی ہونگ اور وِنگ لونگ سیریز کے مار کرنے والے ڈرون بھی مل چکے ہیں، جو ہوا سے زمین تک حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور فضائی صلاحیتوں میں تنوع لاتے ہیں۔
رپورٹ یہ بھی نوٹ کرتی ہے کہ اس فوجی شراکت داری میں بحری جہاز اور فضائی دفاعی نظام بھی شامل ہیں، اور فضائیہ بہ فضائیہ ورکنگ گروپس اور مشترکہ تربیتی سرگرمیوں کی مدد سے دونوں ملکوں کے آپریشنل رابطے گہرے ہو رہے ہیں۔ مئی دو ہزار پچیس میں پیش آنے والے ہوائی جھڑپوں کے دعوے اور متنازع واقعات نے اس بات کو اجاگر کیا کہ چینی سازوسامان پاکستانی دستوں کے عمل میں جلد ہی مربوط ہو چکا ہے، اگرچہ واقعات کی تفصیلات ابھی تک مباحثے کا موضوع ہیں۔
کئی تجزیہ کار اس تعلق کو علاقائی سکیورٹی پر نمایاں اثر کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ پاکستان میں چینی طیاروں اور نظاموں کی توسیع ہندوستان کے سامنے ایک نئی دفعہ توازن کا عنصر ڈال سکتی ہے اور چین کی برآمداتی حکمت عملی ترقی پذیر بازاروں کے لیے مغربی فراہم کنندگان کے مقابلے میں ایک پُرکشش متبادل ثابت ہو سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی چینی سازوسامان کے ساتھ پاکستان کی بڑھتی ہوئی ہم آہنگی سے بین الاقوامی سفارتی اور سکیورٹی خدشات بھی جنم لے سکتے ہیں۔
مختصراً، پینٹاگون کی تشخیص کے مطابق چینی فضائی شراکت پاکستان کو جدید ہوائی صلاحیتوں تک خصوصی رسائی دے رہی ہے اور اس شراکت داری کا اثر خطے کے فوجی توازن اور عالمی اسلحہ منڈیوں پر دور رس ہو سکتا ہے۔
