پاکستان کے مری میں واقع کوہسار یونیورسٹی نے چین کی گوانگ ڈونگ کگنائزر انفارمیشن ٹیکنالوجی کمپنی لمیٹڈ کے ساتھ مفاہمت نامہ طے کیا ہے، جس کے تحت کمپنی نے مشترکہ تحقیقی اور جدیدی لیبارٹری کے قیام کے لیے پانچ کروڑ پاکستانی روپے فراہم کرنے کا عزم ظاہر کیا۔یہ مفاہمت نامہ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر رافیہ ممتاز اور چینی کمپنی کے بانی ڈاکٹر وو جن کے درمیان دستخط ہوا، جس کا مقصد تعلیمی ادارے اور صنعتی شعبے کے مابین فاصلے کم کرنا اور اطلاقی تحقیق کو فروغ دینا بتایا گیا ہے۔معاہدے کے تحت قائم کی جانے والی لیبارٹری سے طلبہ اور فیکلٹی کو جدید ٹیکنالوجی تک رسائی ملے گی، اور تحقیقی و تخلیقی منصوبوں کے ذریعے اکیڈمی اور صنعت کے روابط مستحکم ہوں گے، جس سے کوہسار یونیورسٹی کا تحقیقی کردار مضبوط ہوگا۔اس تعاون میں صنعتی نمائشیں اور عملی تربیتی ورکشاپس بھی شامل ہوں گی تاکہ طلبہ عملی مہارتیں حاصل کریں اور گریجویٹس موجودہ صنعتی تقاضوں کے مطابق تیار ہوں، اس طرح کوہسار یونیورسٹی کے فارغ التحصیل زیادہ صنعت دوست ہوں گے۔وائس چانسلر نے کہا کہ بین الاقوامی شراکتیں طلبہ و فیکلٹی کے لیے عالمی مواقع فراہم کرتی ہیں اور کوہسار یونیورسٹی مری کو تحقیق، جدت اور معاشی تبدیلی کے مرکز کے طور پر مقام دیتی ہیں۔ ڈاکٹر وو جن نے بھی اس تعاون کے تحت پانچ کروڑ روپے کی فراہمی کے اپنے عزم کو دہراتے ہوئے مشترکہ منصوبوں کی ترجیح پر زور دیا۔
