بنگلہ دیشی طلبہ ایسوسی ایشن پاکستان نے یومِ قائد کے موقع پر قائد اعظم کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور ان کی جدوجہد کو مسلمانوں کے لیے آزادی، عزت اور شناخت کا باعث قرار دیا۔ اس موقع پر جاری کردہ بیان میں صدر گوہر محمد جواد نے قائد اعظم کو محض قومی والد ہی نہیں بلکہ ایک دوراندیش رہنما بتایا جن کی قیادت نے برصغیر کے مسلمانوں کو جبر سے نکال کر ایک آزاد وطن دیا۔بیان میں کہا گیا کہ قائد اعظم اور دیگر ممتاز رہنماؤں مثلاً اے کے فضل الحق، حسین شہید سہروردی اور لیاقت علی خان کی عظیم قربانیاں ہی پاکستان کی تشکیل کا سبب بنیں۔ ان رہنماؤں کی قیادت نے مشرقی اور مغربی پاکستان کے مسلمانوں میں اتحاد قائم کیا، جس نے برطانوی حکمرانی اور اس زمانے میں موجود ہندو بالادستی کے خلاف مشترکہ مزاحمت ممکن بنائی۔اس اتحاد کے بغیر، بیان کے مطابق، اس خطے کے مسلمان مدارس، معاشرتی اور سیاسی حقوق سے محروم رہتے اور ایک مستقل شناخت حاصل کرنے سے قاصر رہتے۔ قائد اعظم کی قیادت نے لاکھوں مسلمانوں کو سیاسی و سماجی تسلط سے بچایا اور انہیں عزت و وقار کے ساتھ اپنے عقائد کی آزادی کے ساتھ جینے کا موقع فراہم کیا۔بیان نے مسلم لیگ اور پاکستان تحریک کی تشکیل کو اس شناخت کا بنیادی سبب قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہی ساز و سامان نے مسلمانوں کو ایک الگ قومی شعور اور محفوظ وطن کا احساس دلایا۔ اس تاریخی پس منظر کی روشنی میں طلبہ نے دونوں قوموں کے باہمی رشتوں پر اظہارِ تشکر کیا اور کہا کہ مشترکہ جڑیں، اقدار اور قربانیاں آج بھی تعلقات کا محور ہیں۔حالیہ دور کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسوسی ایشن نے کہا کہ اگرچہ آج پاکستان اور بنگلہ دیش الگ ممالک ہیں، مگر جذباتی اور تاریخی رشتہ برقرار ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ دونوں ملکوں کے درمیان بھائی چارے اور باہمی احترام کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہیں۔ بیان کا اختتام اس جذبے کے اظہار کے ساتھ ہوا کہ پاکستان اور بنگلہ دیش "ایک قوم دو ممالک” کے نظریے میں بھائی چارے کو جاری رکھیں گے اور دو طرفہ دوستی کو مضبوط بنائیں گے۔
