راولپنڈی میں شہید بے نظیر بھٹو کی برسی کے سلسلے میں پیپلز یوتھ آرگنائزیشن اور پیپلز اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے زیر اہتمام جائے شہادت پر ایک بڑی یادگاری تقریب منعقد ہوئی جہاں رہنماؤں اور کارکنوں نے ان کی شخصیت اور خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا۔ مقررین نے کہا کہ بے نظیر بھٹو صرف ایک سیاستدان نہیں تھیں بلکہ مظلوم طبقوں کی آواز، خواتین کے لیے امید اور جمہوریت کی مضبوط پہچان تھیں۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ملک خالد نواز بوبی، راجہ کامران حسین، ملک قاسم ادریس، نمبر دار ملک انعام، عدیل بٹ، عبدالرحمن توکلی، ملک صبیح نواز، ندیم قیصر، ملک عمر اعجاز، ادریش کاظمی، آغا ثاقب ریاض اور راشد اسلام بٹ نے بتایا کہ انہوں نے آمریت کے دور میں جمہوریت کا چراغ روشن رکھا اور قید و جلاوطنی کے باوجود عوامی حقِ حکمرانی کے حصول کے لیے پیچھے نہیں ہٹے۔ مقررین نے اس امر پر زور دیا کہ شہید کی جدوجہد آج بھی عوامی سوچ میں زندہ ہے۔
مقررین نے مزید کہا کہ شہید بے نظیر بھٹو اختلاف رائے کو جمہوریت کی طاقت سمجھتی تھیں اور پارلیمانی نظام کی مضبوطی کے لیے انہوں نے عملی کوششیں کیں جس سے پاکستان کا بین الاقوامی امیج بھی مستحکم ہوا۔ ان کے نظریے میں قانون کی برابری، مضبوط ادارے اور عوامی فلاح و بہبود کلیدی حیثیت رکھتے تھے۔
تقریب میں شمولیت کرنے والوں میں راجہ سکندر ممتاز، عامر عباسی، مدثر جیلانی، چوہدری عبدالرحمن توکلی، ملک عمر اعجاز، راجہ چنگیز خان، ادریش عباس، شیراز آغا، حمزہ ملک، علی ملک اور دیگر کارکنان شامل تھے جنہوں نے شہید کی خدمات اور عوامی سیاست میں ان کے کردار کو یاد رکھا۔ مقررین نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ غریب اور متوسط طبقے کے حقوق کے لیے آواز بلند کی اور یہی پارٹی کے موقف کی بنیاد رہی۔
تقریب کے اختتام پر شہداء کے ایصالِ ثواب کے لیے اجتماعی دعا کی گئی اور شرکاء میں لنگر تقسیم کیا گیا تاکہ یادگار موقع پر اجتماعی روحانی اور سماجی یک جہتی کا پیغام دیا جا سکے۔ شرکا نے عزم ظاہر کیا کہ بے نظیر بھٹو کے اصول اور خدمات کو آئندہ بھی زندہ رکھا جائے گا۔
