غیر ملکی میڈیکل گریجویٹس نے پی ایم ڈی سی پالیسیوں کے خلاف آواز بلند کر دی، حقوق کے تحفظ اور واضح لائسنسنگ نظام کا مطالبہ
غیر ملکی میڈیکل گریجویٹس (ایف ایم جیز) نے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کی حالیہ پالیسی تبدیلیوں پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان فیصلوں نے ان کے پیشہ ورانہ مستقبل، تربیت اور عملی تجربے کے مواقع کو شدید متاثر کیا ہے۔
ایف ایم جیز کے مطابق حال ہی میں پی ایم ڈی سی نے غیر ملکی میڈیکل گریجویٹس کو عارضی لائسنس جاری کرنے کا عمل روک دیا ہے، حالانکہ اس سے قبل جاری کردہ نوٹیفکیشنز میں یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ نئی فہرستوں کی تکمیل کے بعد نیشنل رجسٹریشن امتحان میں شرکت سے قبل پروویژنل رجسٹریشن میڈیکل پریکٹیشنر لائسنس جاری کیا جائے گا۔ تاہم بعد ازاں پی ایم ڈی سی نے اپنا موقف تبدیل کرتے ہوئے نہ صرف عارضی لائسنس جاری کرنے سے گریز کیا بلکہ ہاؤس جاب کے مواقع بھی بند کر دیے، جبکہ انٹرن شپ اور آبزروَر شپ پروگرامز کو بھی معطل کر دیا گیا ہے۔
غیر ملکی میڈیکل گریجویٹس کا کہنا ہے کہ انٹرن شپ اور آبزروَر شپ پروگرامز بالخصوص چین جیسے ممالک سے تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کے لیے نہایت اہم رہے ہیں، جہاں سے فارغ التحصیل طلبہ پاکستان میں سینئر ڈاکٹروں کی نگرانی میں عملی تربیت حاصل کرتے تھے۔ ان پروگرامز کے ذریعے نوجوان ڈاکٹرز کو مریضوں کے علاج، کلینیکل مہارتوں اور پیشہ ورانہ نشوونما کے مواقع میسر آتے تھے، تاہم حالیہ پابندیوں نے ان تمام راستوں کو بند کر دیا ہے جس سے عملی تجربہ حاصل کرنا ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔
غیر ملکی میڈیکل گریجویٹس کے نمائندے ڈاکٹر رافی شیر نے ایک اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایف ایم جیز کو بار بار بدلتی ہوئی پالیسیوں کے بجائے ایک واضح، مستقل اور شفاف لائسنسنگ اور تربیتی نظام کی ضرورت ہے۔ اجلاس میں شریک شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ غیر یقینی صورتحال نہ صرف قیمتی وقت ضائع کر رہی ہے بلکہ نوجوان ڈاکٹروں کو ذہنی دباؤ اور مالی مشکلات کا بھی سامنا ہے۔
انہوں نے مزید مطالبہ کیا کہ نیشنل رجسٹریشن امتحان سال میں کم از کم چار مرتبہ منعقد کیا جائے، کیونکہ موجودہ نظام کے باعث گریجویٹس کے کیریئر میں غیر ضروری تاخیر ہو رہی ہے اور ملک قیمتی طبی افرادی قوت سے محروم ہو رہا ہے۔
ڈاکٹر رافے شیر نے پی ایم ڈی سی اور وزارتِ صحت سے امتحانی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کا بھی مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ روایتی ببل شیٹ سسٹم میں انسانی غلطیوں کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں، جبکہ کمپیوٹرائزڈ امتحانی نظام دنیا بھر میں تسلیم شدہ ہے جو شفافیت، درستگی اور تیز رفتاری کو یقینی بناتا ہے۔
غیر ملکی میڈیکل گریجویٹس نے پی ایم ڈی سی اور حکومتی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اسٹیک ہولڈرز سے فوری مشاورت کی جائے، موجودہ مسائل کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے اور ایسی منصفانہ و معیاری پالیسیاں تشکیل دی جائیں جو ایف ایم جیز کے حقوق کا تحفظ کرتے ہوئے بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگ ہوں۔
Read in English: Foreign Medical Graduates Protest PMDC Policy Shift, Demand Clear Licensing and Training Pathway
