اسلام آباد میں ہیلتھ سروسز اکیڈمی میں منعقد ہونے والے چھٹے انٹرایکٹو یوتھ فورم ۲۰۲۵ نے نوجوان قیادت اور عملی اقدامات کے لیے ایک فعال پلیٹ فارم فراہم کیا۔ فورم کا مقصد پالیسی سازی، صحت، صنفی مساوات، موسمیاتی تبدیلی اور سماجی انصاف کے موضوعات پر نوجوانوں کو متحرک کرنا تھا اور اس میں مقامی و بین الاقوامی تنظیموں نے تعاون فراہم کیا۔تقریب کا آغاز رجسٹریشن اور افتتاحی سیشن سے ہوا جس میں پچھلے فورمز کے اہم نکات پیش کیے گئے اور شراکت دار اداروں اور رضا کاروں کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔ افتتاحی خطاب نایاب علی نے بطور مشیر برائے صنفی شمولیت کیا جبکہ سیدہ امنہ بتول نے نوجوانوں کی پالیسی سازی، شفاف حکمرانی اور سماجی ترقی میں کردار پر زور دیا۔فورم کا مرکزی کلیدی خطاب عبیہ اکرم نے دیا جو قومی فورم برائے معذور خواتین کی سربراہ ہیں، انہوں نے شمولیتی قیادت، نوجوانوں کی شمولیت اور عالمی و مقامی سطح پر وکالت کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ اس موقع پر بین النسلی اور بین العمرانہ مکالمے میں مختلف شعبہ ہائے زندگی کے معزز مقررین نے حصہ لیا جن میں سید معیز ککاخیل، عائشہ مغل، روہی مقبول، پروفیسر ڈاکٹر عمیرہ اور حافظ محمد طلحہ شامل تھے۔ مقررین نے نوجوان قیادت، بین النسلی ہم آہنگی، پالیسی گفتگو اور سماجی ذمہ داری پر اپنے تاثرات شیئر کیے۔فورم کے مرکزی پینل کا موضوع نوجوان اور نوعمر افراد کو مرکزیت دینا تھا جس میں قیادت، صحت اور بہبود، صنفی مساوات، ماحولیاتی لچک اور فیمنسٹ انصاف پر مبنی توانائی کے معاملات زیر بحث آئے۔ پینل کی صدارت ڈاکٹر شہزاد علی خان نے کیں اور پینلسٹس میں زہرہ جابین بطور پروگرام اینالسٹ، اقوام متحدہ برائے آبادی، سمن احسن بطور پورٹ فولیو مینیجر، مایا زمان بطور ڈیٹا اینالسٹ اقوام متحدہ برائے منشیات و جرائم، زہرا سہیل بطور قومی رابطہ افسر یونیسکو، فاطمہ جعفر بطور سینئر پروگرام مینیجر اور پروفیسر ڈاکٹر ثمینہ شامل تھیں۔ گفتگو میں جنسی و تولیدی صحت و حقوق، ذہنی صحت، صنفی مساوات، ماحولیاتی انصاف اور سماجی تبدیلی کے عملی پہلوؤں پر تفصیلی بات چیت ہوئی اور نوجوان قیادت کے عملی راستے پر زور دیا گیا۔شرکاء نے حاضرین کے سوالات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، ماہرین کے ویڈیو پیغامات دیکھے اور ہلکے پھلکے پروگرامز جیسے سٹینڈ اپ کامیڈی کے ذریعے ماحول کو متحرک رکھا گیا۔ دو گھنٹے کے بریک آؤٹ سیشنز میں نوجوان قیادت، ذہنی صحت، جنسی و تولیدی صحت و حقوق، خواتین کی بااختیاری، شواہد پر مبنی پالیسی سازی اور آواز کے موضوعات پر مشاورت ہوئی اور ہر گروپ نے اپنی سفارشات پیش کیں۔ یہ سفارشات ایک نوجوان قیادت پر مبنی کال ٹو ایکشن دستاویز میں شامل کی گئیں تاکہ مقامی اور قومی سطح پر عملدرآمد ممکن بنایا جا سکے۔فورم کے اختتام پر خصوصی مقررین نے خطاب کیا، شرکاء کو اسناد اور یادگاری تحائف دیے گئے اور مقررین نے نوجوانوں کی پالیسی سازی میں موثر شرکت اور پائیدار مستقبل کے لیے اپنی وابستگی کا اظہار کیا۔ پروگرام کا اختتام گروپ فوٹو اور موسیقی کے ایک مختصر کنسرٹ کے ساتھ ہوا جس نے شرکاء میں جوش اور امید کی فضا قائم کی۔ فورم نے واضح کیا کہ نوجوان قیادت کو سنجیدگی سے شامل کیے بغیر صحت، صنفی مساوات اور ماحولیاتی لچک جیسے چیلنجز کا پائیدار حل ممکن نہیں۔
