لاہور میں ۹ تا ۱۱ دسمبر ۲۰۲۵ کو ای پی آئی پنجاب کے زیرِ اہتمام اور عالمی ادارہ صحت کی معاونت سے ایک جائزہ اجلاس منعقد ہوا جس میں بچوں کے امراض، بیماریوں کی نگرانی، عوامی صحت، ٹیکہ کاری اور صحت انتظامیہ کے شعبوں کے ماہرین کے ساتھ یونیسف کے نمائندے بھی شریک تھے۔ اجلاس میں موجودہ نگرانی نیٹ ورک کی فعالیت اور حفاظتی حکمتِ عملیاں زیرِ بحث آئیں۔ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز ڈاکٹر عبدالجبار اور پرو وائس چانسلر یونیورسٹی برائے بچوں کی صحت پروفیسر جنید رشید نے واضح کیا کہ ٹیکہ کاری اور صحت نگرانی ایک دوسرے کے لازمی شراکت دار ہیں اور دونوں کی مشترکہ کارکردگی وبائی خطرات کا شکستِ وقت کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موثر صحت نگرانی کے بغیر ٹیکہ کاری کی ترجیحات اور حکمتِ عملیاں مؤثر انداز میں تیار نہیں کی جا سکتیں۔پنجاب کے نو تعلیمی ہسپتالوں میں قائم نگرانی مراکز وبائی رجحانات، مریضوں کے ڈیٹا اور ممکنہ آؤٹ بریک کے ابتدائی اشارے فراہم کر رہے ہیں۔ شرکاء نے ان مراکز کی جانب سے ملنے والے اعداد و شمار کی اہمیت پر زور دیا کیونکہ یہ ڈیٹا بیماریوں کے رجحانات کی نشان دہی اور بروقت حفاظتی اقدامات کے لیے بنیاد فراہم کرتا ہے۔تکنیکی سیشنز اور تفصیلی تجزیے عالمی ادارہ صحت کے ماہر برائے بیماری نگرانی ڈاکٹر مہروز سلیم کی رہنمائی میں منعقد کیے گئے۔ ان سیشنز میں ڈیٹا کے معیار، تجزیاتی طریقہ کار اور نگرانی سے حاصل شدہ شواہد کی بنیاد پر ویکسین پروگرامز کی اصلاح پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔اجلاس میں اس امر پر اتفاق ہوا کہ نگرانی مراکز سے حاصل شدہ شواہد ٹیکہ کاری کی حکمتِ عملیوں کو ہدفی اور مؤثر بنانے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ شرکاء نے سفارش کی کہ محکمہ صحت، ہسپتال انتظامیہ اور شراکت دار ادارے مل کر صحت نگرانی کو مضبوط کریں تاکہ بروقت معلومات کی بنیاد پر حفاظتی اقدامات نافذ کیے جا سکیں اور ممکنہ آؤٹ بریک کا تدارک ممکن ہو۔
