اعلیٰ تعلیم اور تحقیق میں پاکستان امریکہ شراکت

newsdesk
2 Min Read
وفاقی وزیر اور امریکی نائب سیکریٹری کی ملاقات میں سائنس، اعلیٰ تعلیم و تحقیق میں تعاون اور آئندہ دس سالوں میں ۱۰،۰۰۰ ڈاکٹریٹس کے ہدف پر تبادلہ خیال ہوا

وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی پروفیسر احسن اقبال اور امریکہ کی پرنسپل ڈپٹی اسسٹنٹ سیکریٹری برائے علمی و ثقافتی امور شیری کینسن ہال اور ان کے وفد کے درمیان باہمی دلچسپی کے امور پر ملاقات ہوئی جس میں دوطرفہ تعاون کے امور پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔اعلیٰ تعلیم و تحقیق کے شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا گیا اور اس تعاون کو دونوں ممالک کے دیرینہ تعلقات مستحکم کرنے کے لیے کلیدی قرار دیا گیا۔ وفاقی وزیر نے نشاندہی کی کہ سائنس اور تحقیق میں مل کر کام کرنے سے تعلیمی معیار اور تحقیقی صلاحیت میں نمایاں بہتری آئے گی۔ملاقات میں اس بات پر بھی اتفاق ہوا کہ یہ شراکت داری مستقبل کی تعلیم اور انسانی وسائل کی ترقی کے نئے مواقع پیدا کرے گی۔ مشترکہ تحقیقی منصوبے، اکیڈمک تبادلے اور تعلیمی پروگرامز سے نوجوان نسل کو جدید مواقع فراہم ہوں گے جو ملک کے معاشی اور معاشرتی ترقی میں معاون ثابت ہوں گے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ امریکہ کے فل برائٹ پروگرام کے تحت پاکستانی طلبہ امریکہ میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور وہ ملکی انسانی وسائل کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ ایسے تجربات کو بنیاد بنا کر مزید تعاون کو نظام مند کرنے پر زور دیا گیا۔حکومت پاکستان نے علمی راہداری کے ذریعے آئندہ دس سالوں میں ۱۰،۰۰۰ معیاری ڈاکٹریٹس تیار کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے، جس کے لیے بین الاقوامی شراکت داری اور مواقع کی فراہمی کو لازمی قرار دیا گیا۔ ملاقات کے دوران اس مقصد کے حصول کے لیے عملی تعاون اور تھیںکوں کے تبادلے پر بھی بات ہوئی۔مجموعی طور پر ملاقات میں اعلیٰ تعلیم و تحقیق کے شعبے میں واضح رجحان اور عزم دیکھنے میں آیا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلیمی و تحقیقی تعاون کو مضبوط کر کے آئندہ نسلوں کے لیے نئے راستے کھولے جائیں گے اور انسانی وسائل کی استعداد میں اضافہ ممکن بنایا جائے گا۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے