سول سوسائٹی نے آن لائن ہراسگی کے خلاف عملی اقدامات اور حفاظتی راستے فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ شیلٹرز، ہیلپ لائنز اور آن لائن سپورٹ نیٹ ورکس ایسے شعبے ہیں جو متاثرہ خواتین اور لڑکیوں کو فوری رہنمائی اور معاونت فراہم کرتے ہیں، جس سے آن لائن ہراسگی کا شکار افراد بہتر طریقے سے اپنے حقوق کے دفاع کے قابل بنتے ہیں۔قومی کمیشن برائے حقوقِ اطفال اور قانونی امداد فراہم کرنے والے سیل نے واضح کیا ہے کہ آن لائن اور آف لائن دونوں سطحوں پر حفاظتی راستے موجود ہونا لازمی ہیں۔ رہنمائی، قانونی مشورہ اور ضروری مدد متاثرہ افراد کو اظہارِ رائے اور عوامی شرکت کے قابل بنانے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے اور آن لائن ہراسگی کے اثرات کو کم کرتی ہے۔سویڈن نے ان اداروں اور امدادی کوششوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور کہا کہ آن لائن ہراسگی ناقابلِ قبول ہے۔ بین الاقوامی حمایت مقامی اداروں کی کاوشوں کو تقویت دیتی ہے اور محفوظ ڈیجیٹل فضا بنانے کی کوششوں کو فروغ دیتی ہے۔سول سوسائٹی، امدادی یونٹس اور قانونی سیل مشترکہ طور پر متاثرین کے لیے حفاظتی راستوں، مشاورتی خدمات اور قانونی معاونت فراہم کرتے ہیں تاکہ خواتین اور لڑکیاں بلا خوف گفتگو، شرکت اور قیادت کر سکیں۔ اس ضمن میں مقامی ہیلپ لائنز اور آن لائن نیٹ ورکس کی مسلسل فعالیت آن لائن ہراسگی کے خلاف موثر ردِ عمل کی بنیاد ہے۔مجموعی طور پر یہ کوششیں آن لائن ہراسگی کے خلاف مستقل مزاجی کا اظہار ہیں اور سویڈن سمیت شراکت دار ادارے ہر روز اس عزم کی تائید کرتے ہیں تاکہ حفاظت، وقار اور برابر حقوق کو یقینی بنایا جا سکے۔
