کشمیر کے تنازع پر نئی تحقیقی کتاب شائع

newsdesk
6 Min Read
انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز اسلام آباد کے انڈیا اسٹڈی سینٹر نے کشمیر مسئلہ پر نئی کتاب شائع کی، کشمیری آوازیں مرکزی حیثیت میں ہیں

انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز اسلام آباد کے انڈیا اسٹڈی سینٹر نے حال ہی میں ایک مرتبہ کتاب شائع کی جس میں کشمیر مسئلہ کے مختلف پہلو سامنے لائے گئے ہیں۔ اس مجموعے میں بارہ ابواب شامل ہیں جن میں پاکستان، آزاد جموں و کشمیر اور بیرون ملک سے تعلق رکھنے والے ماہرین اور مصنفین نے حصہ لیا ہے۔ کتاب میں کشمیری لکھنے والوں کو مرکزی حیثیت دی گئی ہے تاکہ کشمیری عوام کے تجربات اور اذیت کو واضح انداز میں پیش کیا جا سکے۔

ڈاکٹر غلام نبی فائی مہمان خصوصی کے طور پر موجود تھے اور انہوں نے اس کا خیرمقدم کرتے ہوئے بتایا کہ دستیاب کتب میں کشمیری آوازیں عموماً مفقود رہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بہت سی تحریریں بھارتی یا غیر ملکی نقطۂ نظر کو فروغ دیتی ہیں اور کشمیری عوام کی تکالیف کو نظر انداز کر دیتی ہیں۔ ڈاکٹر فائی نے اس بات پر زور دیا کہ کشمیر مسئلہ صرف ارضی معاملہ نہیں بلکہ لاکھوں کشمیریوں کی امنگوں اور حقوق کا معاملہ ہے اور کشمیری ہمہ وقت پناہ گزین یا تارکینِ وطن برادریوں کے ذریعے اپنا مقدمہ عالمی سطح پر اجاگر کرتے رہے ہیں۔

سہیل محمود بطور ڈائریکٹر جنرل انسٹی ٹیوٹ نے کہا کہ یہ کتاب کشمیری عوام کی حقیقی صورتحال کو منظر عام پر لاتی ہے اور بھارت کی یکطرفہ کارروائیوں کے بعد پانچ اگست دو ہزار انیس کے پس منظر میں پالیسیوں اور ان کے نتائج کو واضح کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کتاب میں حقوق کی مسلسل نفی، سیاسی مجرّدانہ اقدامات اور آبادیاتی تبدیلیوں کے خدشات کو نمایاں کیا گیا ہے جو کسی حد تک نوآبادیاتی منصوبے کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

مجموعے میں بھارتی بیانیے کی تردید کے ساتھ مختلف غیرمنصفانہ دعووں کو بھی چیلنج کیا گیا ہے اور ‘ترقی’ اور ‘معمول’ کے دعووں کو تنقیدی نظر سے دیکھا گیا ہے۔ کتاب میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا تفصیلی ذکر موجود ہے، جن میں ثقافتی دباؤ، غیرقانونی گرفتاریوں، سیاسی قیادت کے خلاف کاروائیاں، نوجوانوں کا ہدف بنایا جانا، صحافیوں اور حقوقِ انسانی کارکنوں پر کریک ڈاؤن، اجتماعی سزائیں اور معاشی دباؤ شامل ہیں۔

کتاب کے اجراء کے دوران اقوامِ متحدہ کے خصوصی نمائندوں کی تازہ رپورٹ کا حوالہ بھی دیا گیا جو پاہلگام پر حملے کے بعد کی صورتحال پر مبنی ہے۔ اس حوالہ سے واضح کیا گیا کہ تشویشناک واقعات اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں مسلسل جاری ہیں۔ پاکستان کے نقطۂ نظر کے مطابق کشمیری مسئلے کا حل ڈائیلاگ کے ذریعے ممکن ہے مگر یہ گفت و شنید جبھی ممکن ہے جب یکطرفہ اور مجبوری بنیادوں پر ٹھوس حالات پیدا نہ کیے جائیں؛ امن کے لیے انصاف لازم ہے۔

ڈاکٹر خرم عباس نے ابتدائی کلمات میں کہا کہ خبر کے مقابلے میں کتاب کی قدر زیادہ دیرپا ہوتی ہے، اور یہی وجہ ہے کہ اس مجموعے کو کشمیر مسئلہ کے مختلف ابعاد کو طویل مدتی حوالہ کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کہا گیا ہے۔ ڈاکٹر ولید رسول نے کتاب کو خوش آئند قرار دیا اور کہا کہ یہ ایک کثیرالجہتی نقطۂ نظر سے کشمیری جدوجہد کو دیکھتی ہے۔ انہوں نے بھارت کی جانب سے حال ہی میں کچھ کتب پر پابندیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارتی پالیسی کشمیری سرزمین پر قبضے اور عوام کی معاشی اور سماجی گلا گھونٹنے پر مرکوز ہے۔

الطاف حسین وانی نے کہا کہ کتاب ایسے سوالات اٹھاتی ہے جنہیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا اور یہ طالب علموں اور محققین کے لیے ایک اہم حوالہ ثابت ہو گی۔ ان کا اصرار تھا کہ بھارتی بیانیہ کا مقابلہ تحقیق پر مبنی مستند مواد سے ہی ممکن ہے۔ سفیر بابر امین نے کتاب کی اہمیت اس بات میں دیکھی کہ یہ نہ صرف قانونی اور سیاسی جہتوں کو دستاویزی شکل دیتی ہے بلکہ انسانی قیمت، بین الاقوامی ردعمل اور امن و عدل کے تقاضوں کو بھی محفوظ کرتی ہے۔

آخر میں بورڈ آف گورنرز کے چیئرمین سفیر خالد محمود نے اس بات پر زور دیا کہ خود ارادیت کا حق اقوامِ متحدہ کے بنیادی انسانی حقوق میں شامل ہے اور اس حق کا انکار بین الاقوامی قوانین کے منطقی تقاضوں کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کی جدوجہد انصاف کے ایک دیرپا مقصد پر قائم ہے اور وہ یقین رکھتے ہیں کہ تاریخی درستگی کے ساتھ یہ جدوجہد کامیاب ہوگی۔

اس کتاب کے اجرا سے کشمیر مسئلہ کے حوالے سے مقامی اور عالمی مباحث میں کشمیری آوازوں کی موجودگی مضبوط ہوگی اور تحقیقی سطح پر دستیاب مواد اس بحث کو مزید مستند بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے