طارق وارثی کی یاد میں نیشنل پریس کلب کی تعزیتی مجلس

newsdesk
3 Min Read
نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں طارق وارثی کی یاد میں تعزیتی ریفرنس، صحافیوں اور رہنماؤں نے ان کی صحافتی خدمات کو سراہا اور دعائے مغفرت کی۔

نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں سینئر صحافی اور سابق ریذیڈنٹ ایڈیٹر طارق وارثی کی یاد میں تعزیتی ریفرنس منعقد ہوا جس میں صحافتی حلقوں، سیاسی رہنماؤں اور ادارتی صفوں کے نمائندوں نے شرکت کی اور مرحوم کی خدمات کو اجاگر کیا۔ شرکاء نے کہا کہ طارق وارثی شخصیت نہیں بلکہ ایک عہد کا نام تھے جن کی صحافتی راہ نمائی آج بھی نوجوان صحافیوں کے لیے مشعل راہ ہے۔ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے اپنے خطاب میں کہا کہ سیاست اور صحافت دونوں مشکل شعبے ہیں اور ان میں ایمانداری اور سچ کے ساتھ کھڑا ہونا قابل قدر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ طارق وارثی نے حق کے سفر کو ثابت قدمی سے طے کیا اور انہیں یہ مرتبہ اسی محنت کی وجہ سے حاصل ہوا۔افضل بٹ نے قومی پریس کلب کے اس اقدام کو خراج تحسین قرار دیا اور کہا کہ پیشے میں سینئر اور جونیئر ہونا الگ بات ہے مگر اصل بڑے پن کا اندازہ ساتھیوں کی گواہی سے ہوتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مرحوم کا خاندان کتابت کے شعبے سے وابستہ تھا جو ان کی علمی پس منظر کی عکاسی کرتا ہے۔طارق علی ورک نے مرحوم کی پرنٹ میڈیا میں خدمات کو سراہا اور کہا کہ وہ پرنٹ کے سنہرے دور میں انسٹیٹیوٹ جیسی حیثیت رکھتے تھے۔ اظہر جتوئی نے کہا کہ نیشنل پریس کلب اپنے ممبران کو کبھی نہیں بھولتا اور طارق وارثی صحافت کے افق پر روشن ستارہ تھے۔نظامت کے فرائض سرانجام دیتے ہوئے وقار عباسی نے کہا کہ طارق وارثی شخصیات سے بڑھ کر ایک عہد کے نام تھے اور صحافت اس پر فخر کرتی ہے۔ سینئر صحافی جاوید صدیق نے نیشنل پریس کلب کی روایت کی تعریف کی جبکہ عزیز علوی نے بتایا کہ مرحوم نے مشکل حالات میں بھی صحافتی ذمہ داریاں ایمانداری سے نبھائیں۔تقریب میں ایم جاوید، شکیلہ جلیل، عامر سجاد سید، عابد عباسی، جاوید بھاگٹ، سحر اسلم، سردار خرم، سبطین لودھی، ماجد افسر اور نوید احمد شیخ سمیت دیگر صحافیوں اور متعلقہ شخصیات نے شرکت کی اور مرحوم کے لیے دعائے مغفرت کی۔ شرکاء نے کہا کہ طارق وارثی جونیئرز کے لیے یونیورسٹی کی مانند تھے اور ان کا خلاء برسوں پر نہیں بھرا جا سکے گا۔تقریب کے اختتام پر ممبر گورننگ باڈی اظہار خان نیازی نے مرحوم کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کرائی اور شریکین نے تعزیتی ریفرنس کو ایک یادگار اقدام قرار دیا۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے