وزیر انسانی حقوق نے بچوں کے تحفظ کا عہد

newsdesk
4 Min Read
اسلام آباد میں منعقدہ تقریب میں سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے بچوں کے حقوق اور تحفظ کو اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے پیشرفت اور چیلنجز پر روشنی ڈالی۔

اسلام آباد میں قومی کمیشن برائے حقوقِ طفل کی جانب سے عالمی یومِ اطفال ۲۰۲۵ کے موقع پر منعقدہ تقریب میں وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ بچوں کے حقوق کو مضبوط بنانا قومی ترجیح ہے اور ہر بچہ محفوظ، صحت مند اور تعلیم یافتہ ماحول میں پرورش پائے گا۔ تقریب میں وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک، قومی کمیشن برائے حقوقِ طفل کی چیئرمین عائشہ رضا فاروق، یونیسف کی نمائندہ برائے پاکستان پرنیلے آئیرونسائیڈ، سول سوسائٹی اور مختلف سرکاری اداروں کے نمائندے اور ملک بھر سے مدعو کردہ بچے بھی موجود تھے۔وزیر نے بتایا کہ پاکستان نے کنونشن برائے حقوقِ طفل کی توثیق کے ذریعے غیر تفریق کی بنیاد پر بچوں کے حقوق کی پاسداری کا عزم ظاہر کیا ہے اور اسی عزم کے تحت مختلف نظام مضبوط کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کے حقوق کو مرکزی نقطۂ نظر بنایا جائے گا اور فیصلوں میں بچوں کی ترجیحات کو مدِ نظر رکھا جائے گا۔تقریب میں بچوں کے حقوق کے تحفظ کے پیش رفت اور مسائل پر بھی بات ہوئی۔ وزیر نے تسلیم کیا کہ تعلیم، صحت، غذائیت، تحفظ اور قانونی شناخت تک رسائی میں ابھی رکاوٹیں موجود ہیں جن کے ازالے کے لیے سیاسی عزم، ادارہ جاتی تعاون اور والدین و معاشرے کی فعال شرکت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کے حقوق کے نفاذ میں تمام ریاستی اور غیر ریاستی اداکاروں کا مشترکہ کردار لازم ہے۔وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے بچوں کے حقوق کے تحفظ کے حوالے سے حکومت کی کاوشوں کا ذکر کرتے ہوئے پیدائش کے اندراج کے نظام میں مضبوطی، ضلعوں کی سطح پر بچوں کے تحفظ کے یونٹس کا فعال ہونا، نظامِ معلومات برائے بچوں کے تحفظ کا نفاذ، چوبیس گھنٹے رابطہ مرکز، بچوں کے تحفظ سے متعلق پالیسیوں کی ترقّی، قومی اور صوبائی سطح کے بچوں کی مشقت کے سروے کی تکمیل اور بچوں کی شادی کے حوالے سے قوانین پر اقدامات کی جانب توجہ دلائی۔قومی کمیشن برائے حقوقِ طفل کی چیئرمین عائشہ رضا فاروق نے کہا کہ کمیشن کا مشن یہی ہے کہ بچوں کی آوازیں اُن پالیسیوں میں جھلکیں جو انہی بچوں کے مستقبل کو تشکیل دیتی ہیں۔ انہوں نے بچوں کے مشاورتی پینل کی مثال دی جو مختلف پس منظر سے تعلق رکھنے والے بچوں کی حقیقتوں اور تجاویز کو سامنے لاتا ہے اور تمام اداروں، معاشروں اور خاندانوں پر زور دیا کہ وہ بچوں کو قومی ترجیحات کے مرکز میں رکھیں۔یونیسف کی نمائندہ پرنیلے آئیرونسائیڈ نے کہا کہ ہر بچہ محفوظ، خوشحال اور امید سے بھرا مستقبل کا حق رکھتا ہے، مگر بہت سے بچے آج بھی غذائیت، حفاظت اور تعلیم سے محروم اٹھتے ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ بہتر مستقبل کے لیے بچوں کی آوازوں کو رہنمائی بنانا ضروری ہے اور ہم مل کر بہتری کے اقدامات کریں گے۔تقریب نے واضح کیا کہ بچوں کے حقوق اور تحفظ کو اولیت دینا حکومت، اداروں، سول سوسائٹی، معاشروں اور خاندانوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور بچوں میں شمولیت اور اُن کی آواز کو اہمیت دینے سے ہی وہ معاشرہ قائم کیا جا سکتا ہے جہاں ہر بچہ پروان چڑھ سکے۔ بچوں میں سرمایہ کاری کو قومی مستقبل میں سرمایہ کاری سمجھتے ہوئے اس حوالے سے مستقل اقدامات کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے