20 نومبر کو بشکیک میں کاریک کے چوبیسویں وزارتی اجلاس میں وفاقی وزیر شزا فاطمہ خواجہ نے خطے میں ڈیجیٹل تعاون اور کنیکٹیویٹی کے فروغ کے لیے متعدد دور رس مذاکرات کیے۔ ڈیجیٹل تعاون کو آگے بڑھانے پر زور دیتے ہوئے وزیر نے پاکستان کی طرف سے کراچی اور گوادر کے ذریعے سب میرین کیبلز کے ذریعے بینڈوڈتھ کی پیش کش کی اور علاقائی خدمت کا مقصد واضح کیا۔بشکیک میں کرغزستان کے وزیر برائے ڈیجیٹل ڈویلپمنٹ سے ملاقات میں دونوں فریق نے علاقائی رابطوں، انفراسٹرکچر کے مشترکہ راستوں اور سرمایہ کاری کے مواقع پر اتفاق کیا۔ کاریک فریم ورک کے تحت فائبر کنیکٹیویٹی کے ممکنہ راستوں پر تفصیلی بات چیت ہوئی اور ایک مشترکہ ٹیکنیکل کنیکٹیویٹی گروپ کے قیام کی تجویز پیش کی گئی تاکہ عملی مرحلے میں منصوبہ بندی تیز ہو سکے۔سافٹ ویئر، کلاؤڈ سروسز اور سائبر سیکیورٹی میں تربیتی پروگراموں کی ضرورت پر زور دیا گیا اور باہمی صلاحیت سازی کے لیے مشترکہ کورسس اور ورکشاپس پر اتفاق ہوا۔ پاک کرغز اسٹارٹ اپ برج قائم کرنے کی راہ پر پیش رفت کا عزم ظاہر کیا گیا جبکہ مشترکہ ہیکاتھونز اور تبادلہ پروگرامز کے ذریعے اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم کو مضبوط بنانے کا منصوبہ زیر غور آیا۔وفاقی وزیر کی ازبک وزیر سرمایه کاری، صنعت و تجارت سے بھی ملاقات ہوئی جس میں ڈیجیٹل تجارت، اسٹریٹجک کنیکٹیویٹی اور کاریک ڈیجیٹل کوریڈور کے تحت پاکستان اور ازبکستان کے درمیان فائبر لنک کے امکانات پر بات چیت ہوئی۔ اس بات پر اتفاق ہوا کہ سستا بینڈوڈتھ، ڈیٹا سینٹرز کی ترقی اور علاقائی ڈیجیٹل تجارتی بہاؤ کو بڑھا کر معاشی مواقع کو فروغ دیا جائے گا۔دونوں ممالک نے سافٹ ویئر، فِن ٹیک اور ای کامرس میں مشترکہ جوائنٹ وینچر ماڈلز پر گفت و شنید کی اور انگریزی اور روسی زبان کی بنیاد پر آؤٹ سورسنگ کے نئے ماڈلز متعارف کرانے کی تجاویز زیرِ غور آئیں۔ قومی معلوماتی مراکز اور ازبک ٹیکنالوجی پارکس کے درمیان اسٹارٹ اپ تعاون کو فروغ دینے اور مشترکہ مارکیٹ تک رسائی کے منصوبوں پر بھی اتفاق ہوا۔ملاقاتوں کے مجموعی نتائج میں سائبر سیکیورٹی، ڈیجیٹل پالیسی سازی اور مشترکہ ریگولیٹری فریم ورک میں تعاون بڑھانے کا عزم نمایاں رہا، جس سے خطے میں ڈیجیٹل تعاون کے نئے راستے کھلنے کی توقع پیدا ہوئی۔
