قومی سائبر ہنگامی ردعمل ٹیم نے فاسٹ یونیورسٹی کے زیر اہتمام خواتین برائے سائبر سکیورٹی فورم میں ایک تربیتی نشست منعقد کی جس کا محور روزگار میں جنساتی تعصب اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے چیلنجز تھے۔ یہ نشست ‘‘سیکیورٹی آگاہی برائے خواتین کی بااختیاری و لچک‘‘ پروگرام کے تحت رکھی گئی تھی اور اس کا مقصد طالبات اور اساتذہ کو عملی بصیرت فراہم کرنا تھا۔
ڈاکٹر مہرین افضال، جو ادارے میں حکمرانی، رسک اور تعمیل کی سربراہی کرتی ہیں، نے عالمی اور مقامی سطح کے رجحانات کا تجزیہ پیش کیا اور واضح کیا کہ کس طرح خواتین سائبر شعبے میں کم نمائندگی رکھتی ہیں۔ انہوں نے نظامی عوامل کی نشاندہی کرتے ہوئے بتایا کہ تعلیمی مواقع، رہنمائی کے فقدان اور پیشہ ورانہ نیٹ ورکس تک محدود رسائی ان عدم توازنیوں کی بڑی وجہ ہیں۔
شرکاء نے پیشہ ورانہ سفر کے دوران درپیش مخصوص رکاوٹوں پر کھل کر بات کی اور یہ تسلیم کیا کہ تعصب صرف بھرتی تک محدود نہیں بلکہ ترقی، تنخواہ اور قیادت تک رسائی پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ اس موقع پر خواتین سائبر سکیورٹی میں شمولیت اور رہنمائی کے رول پر زور دیا گیا تاکہ روزگار کے مواقع میں توازن لایا جاسکے۔
تقریب میں سائبر سکیورٹی اور کمپیوٹر سائنس کے شعبوں کی طالبات نے فعال گفتگو میں حصہ لیا، اپنے کیرئیر اہداف اور راہیں شیئر کیں اور لیڈرشپ تک پہنچنے کے عملی طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔ تربیتی ماحول نے شرکاء کو باہم تجربات بانٹنے اور نیٹ ورک سازی کے لیے مدد فراہم کی، جس سے خواتین کے لیے پیشہ ورانہ ترقی کے نئے راستے کھلنے کی امید پیدا ہوئی۔
میزبانوں نے کہا کہ شمولیت، رہنمائی اور آگاہی کے ذریعے روزگار میں جنساتی تفریق کم کی جا سکتی ہے اور خواتین نہ صرف اس شعبے کا حصہ ہیں بلکہ اس کی سالم اور جدید ترقی کے کلیدی محرک بھی ہیں۔ اس تربیت نے اس عزم کو مضبوط کیا کہ خواتین سائبر سکیورٹی میں بہتر مواقع اور مساوی شرکت کے لیے مستقل اقدامات کیے جائیں گے۔
قومی سائبر ہنگامی ردعمل ٹیم کی یہ کاوش خواتین کی بااختیاری کے لیے آگاہی بڑھانے، رہنمائی فراہم کرنے اور تعلیمی و پیشہ ورانہ مواقع کے فروغ کی کوششوں کے سلسلے کی ایک کڑی ہے، جس کا ہدف مزید شمولیتی اور مضبوط سائبر ورک فورس تیار کرنا ہے۔
