آئی ٹی انڈسٹری میں ڈبل ڈیجیٹ میں ایکسپورٹ گروتھ ہو رہی ہے
فائیو جی (5G) پر منتقلی آئی ٹی برآمدات کے لیے گیم چینجر ثابت ہوگی: پاشا
اسلام آباد: پاکستان آئی ٹی انڈسٹری ایسوسی ایشن (پاشا) نے فائیو جی (5G) ٹیکنالوجی کی انقلابی صلاحیت کو اجاگر کرتے ہوئے اسے ملک کی آئی ٹی برآمدات اور ڈیجیٹل معیشت کو کئی گنا تک بڑھانے کے لیے ایک ناگزیر محرک قرار دیا ہے۔
واضح رہے کہ پاشا اعلیٰ ترین پالیسی ساز ایوانوں میں ملک کے کنیکٹیویٹی سپیکٹرم کو 5G میں ہموار اور وسعت دینے کی مسلسل اور بھرپور وکالت کرتی رہی ہے۔
پاشا نے خاص طور پر شفاف، منصفانہ اور کامیاب فائیو جی سپیکٹرم نیلامی میں وزیراعظم، وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام (MoITT)، خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC) اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) کی ان تھک کوششوں کو شاندار الفاظ میں سراہا ہے، جس کے نتیجے میں ملک کو 507 ملین ڈالر کا خطیر زرمبادلہ بھی حاصل ہوا ہے۔
انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) اور آئی ٹی ایبلڈ سروسز (ITeS) کے شعبوں کی اس اعلیٰ نمائندہ تنظیم نے اس بات پر زور دیا کہ ملٹی گیگا بٹ فائیو جی انفراسٹرکچر کی جانب منتقلی محض انٹرنیٹ کی رفتار میں اضافہ نہیں ہے، بلکہ یہ اگلی نسل (نیکسٹ جنریشن) کی تکنیکی ترقی اور عالمی مسابقت کے لیے ایک لازمی جزو ہے۔
پاشا کے مطابق، اس جدید ٹیکنالوجی کے آغاز سے ‘الٹرا لو لیٹنسی’ (انتہائی کم تاخیر) اور وسیع نیٹ ورک کی گنجائش میسر آئے گی، جس سے قومی معیشت کے لیے کئی اہم فوائد کے دروازے کھلیں گے۔ قابلِ اعتماد اور تیز ترین کنیکٹیویٹی کی بدولت عالمی انضمام مزید ہموار ہوگا، جس سے سافٹ ویئر ہاؤسز اور ٹیک کمپنیوں کو عالمی سپلائی چینز کے ساتھ بغیر کسی رکاوٹ کے جڑنے کا موقع ملے گا۔
زیرو لیٹنسی (بغیر کسی تاخیر کے) مواصلات سے پاکستانی کمپنیوں کو یہ استعداد حاصل ہوگی کہ وہ بین الاقوامی کلائنٹس کو پیچیدہ اور ڈیٹا سے بھرپور پراجیکٹس بے مثال کارکردگی کے ساتھ فراہم کر سکیں۔ اس کے نتیجے میں پاکستان کی آئی ٹی برآمدات میں مزید تیزی آئے گی، جو مستقبل قریب میں ملک کی دوسری سب سے بڑی برآمدی صنعت بننے کی جانب گامزن ہے۔
چیئرمین پاشا سجاد مصطفیٰ سید نے وضاحت کی کہ ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کو متحرک کرنے کے لیے فائیو جی انتہائی ناگزیر ہے کیونکہ یہ ڈیٹا پر مبنی ٹیکنالوجیز کے لیے بنیادی ریڑھ کی ہڈی فراہم کرے گا۔ اس سے صحت عامہ، تعلیم، زراعت اور سمارٹ سٹی انفراسٹرکچر جیسے شعبوں میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI)، انٹرنیٹ آف تھنگز (IoT) اور آگمینٹڈ رئیلٹی (Augmented Reality) ایپلی کیشنز کی مقامی سطح پر تیاری اور نفاذ میں نمایاں تیزی آئے گی۔
پاشا نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ فائیو جی پر منتقلی سے نیٹ ورک کی بہتر صلاحیتوں کے ساتھ کلاؤڈ ایکو سسٹم کی ترقی ممکن ہوگی۔ مقامی کاروباری ادارے کلاؤڈ اور ایج کمپیوٹنگ (Edge Computing) سلوشنز سے بھرپور فائدہ اٹھا سکیں گے، جس سے نہ صرف آپریشنل اخراجات میں کمی اور سائبر سکیورٹی میں بہتری آئے گی بلکہ سٹارٹ اپس کو تیزی سے وسعت دینے میں بھی مدد ملے گی۔
پاشا کے سربراہ نے مزید کہا، "فائیو جی کا انضمام پاکستان کی آئی ٹی انڈسٹری کے لیے ایک فیصلہ کن لمحہ (واٹرشیڈ مومنٹ) ہے۔ آئی ٹی برآمدات کے اپنے وسیع اہداف کے حصول کے لیے ہمیں عالمی معیار کے انفراسٹرکچر کی ضرورت ہے۔ فائیو جی وہ ڈیجیٹل ہائی وے ہے جو ہمارے شاندار ڈویلپرز، جدت طراز سٹارٹ اپس اور مستحکم ٹیک کمپنیوں کو عالمی سطح پر مقابلہ کرنے اور کامیابی حاصل کرنے کے قابل بنائے گی۔”
اپنی بات کا اختتام کرتے ہوئے، ایسوسی ایشن نے وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن (MoITT)، خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC)، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) اور ٹیلی کام آپریٹرز پر زور دیا کہ وہ اس شعبے کی بڑھتی ہوئی انفراسٹرکچر کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے فائیو جی کی تیز ترین، منصفانہ اور انڈسٹری دوست فراہمی کو یقینی بنائیں۔
